پشاور (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا میں سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ اور علاقہ قاضی کی 105 آسامیوں کے لیے ہونے والے تحریری امتحان کے نتائج پر خیبر پختونخوا بار کونسل نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے تحت بی پی ایس 18 کی 105 آسامیوں کے لیے 3,097 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں، جن میں سے 1,024 امیدوار تحریری امتحان میں شریک ہوئے، تاہم صرف 3 امیدوار کامیاب قرار پائے۔
خیبر پختونخوا بار کونسل نے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوٹیفکیشن واپس لینے اور نتائج پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
بار کونسل کے مطابق صوبے میں ججز کی کمی اور مقدمات کے زیر التوا ہونے کے باعث 105 آسامیوں کے مقابلے میں صرف 3 امیدواروں کی کامیابی تشویش ناک ہے، جس سے امتحانی معیار اور بھرتی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
بار کونسل نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے معاملے کا نوٹس لینے اور امتحانی عمل کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
بار کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو دستیاب قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کیا جائے گا۔ بار کونسل نے آئندہ سول ججز کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے بجائے پشاور ہائیکورٹ کے ذریعے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ تجربہ کار وکلا کی پیشہ ورانہ قابلیت کو مدنظر رکھا جا سکے۔
