کابل (پاک ٹوڈے): افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے پاکستان سے افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ ایران اور پاکستان میں منشیات کی کاشت، پیداوار اور افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اسمگلنگ کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔
طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالمتین قانع نے کہا کہ افغان حکام ملک بھر، سرحدی علاقوں اور باضابطہ سرحدی گزرگاہوں پر منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، پڑوسی ممالک میں منشیات کی کاشت اور پیداوار کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں یوریشیا ریویو کے ایک تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد پاکستان کے صوبے بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بلوچستان میں 9 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر پوست کاشت کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں منشیات کے امور کے ماہر ڈیوڈ مینسفیلڈ کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق افغانستان میں منشیات کی پیداوار پر پابندی کے بعد اس سرگرمی کے بعض مراکز سرحد پار علاقوں، خصوصاً بلوچستان اور ایران کے کچھ حصوں میں منتقل ہوئے ہیں۔
