قازقستان (پاک ٹوڈے): قازقستان کے مغربی علاقے منگستاؤ میں بحری تربیتی مشق کے دوران پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے، جبکہ واقعے کے بعد پانچ فوجی افسران کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
حادثہ 24 ستمبر کو بحیرہ کیسپیئن کے ساحل پر پیش آیا، جہاں خراب موسم اور تیز ہواؤں کے باعث مشق میں شریک 17 اہلکار سمندر میں بہہ گئے۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی شروع کی اور تین اہلکاروں کو زندہ نکال لیا، تاہم 12 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
امدادی کارروائی کے دوران اگلے روز مزید دو اہلکاروں کی لاشیں ملنے کے بعد حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی۔
واقعے کے بعد قازقستان کی وزارت داخلہ نے وزارت دفاع سے وابستہ پانچ افسران کو حراست میں لے لیا، جن میں بحریہ کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق افسران کے خلاف ممکنہ غفلت اور بحری جہاز رانی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجوہات اور ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
قازقستان کے صدر قاسم ژومارت توکایف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکومتی کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ صدر نے متعلقہ اداروں کو حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور تحقیقات کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔
