برسلز (پاک ٹوڈے): یورپی یونین نےیوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر اقتصادی و سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے آنے والے مہینوں میں اب تک کی سب سے وسیع اور سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے جرمن روزنامے ’’ڈی ویلٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ وہ آئندہ موسم خزاں میں روس کے خلاف اب تک کے سب سے بڑے سائنکشنز پیکیج کی فہرست پیش کریں گی۔
روسی جنگی مشینری کو مالی نقصان اور نیا ہدف
کایا کالاس کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے اب تک عائد کردہ پابندیوں نے روس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان اقدامات کے نتیجے میں روسی جنگی مشینری اب تک ایک ٹریلین یورو (تقریباً 1.16 ٹریلین ڈالر) سے زائد کے مالی وسائل سے محروم ہو چکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی پابندیوں کی حتمی منظوری کے بعد یورپی یونین کی بلیک لسٹ میں شامل روسی اداروں، کمپنیوں اور افراد کی مجموعی تعداد میں یک مشت ایک تہائی (33 فیصد) سے زائد کا اضافہ ہو جائے گا۔
خارجہ پالیسی کی سربراہ نے واضح کیا کہ جب تک ماسکو یوکرین میں اپنی جنگی کارروائیاں مکمل طور پر ختم نہیں کر دیتا، اس وقت تک اس پر بین الاقوامی اقتصادی دباؤ مسلسل بڑھایا جاتا رہے گا۔ تاہم انہوں نے فی الوقت نئی پابندیوں کے پیکیج کی حتمی تاریخ اور تکنیکی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ یورپی یونین نے رواں سال جولائی میں روس کے خلاف پابندیوں کا ایک پیکیج منظور کیا تھا، جس میں روسی بینکنگ سیکٹر اور کرپٹو کرنسی نیٹ ورکس کو ہدف بنایا گیا تھا۔
