فیض آباد/کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان میں افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک اہم آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی صفوں سے بغاوت کرنے والے سینئر کمانڈر اور صوبہ زابل کے سابق نائب گورنر جمعہ خان فاتح نے اپنے مسلح جنگجوؤں سمیت حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
بدخشان میں موجود باوثوق ذرائع کے مطابق، جمعہ خان فاتح نے اسلامی امارت کی مرکزی قیادت سے اختلافات کے بعد اپنے جنگجوؤں کے ہمراہ بدخشان کے دشوار گزار علاقوں میں روپوش ہو کر بغاوت کا اعلان کیا تھا۔
افغان سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ کئی روز سے ان کی گرفتاری کے لیے صوبے میں ناکہ بندی اور آپریشن شروع کر رکھا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کا گھیرا تنگ ہونے پر گزشتہ روز ان کے مسلح ساتھیوں نے سرینڈر کیا تھا، جس کے بعد آج جمعہ خان فاتح نے بھی خود کو سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ گرفتاری کے فوری بعد اعلیٰ حکام کی ہدایات پر انہیں خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کابل منتقل کیا جا رہا ہے۔
موازی حکومت اور تنازع کی بنیادی وجہ
جمعہ خان فاتح شمالی افغانستان بالخصوص بدخشان کے ضلع درواز اور اطراف کے علاقوں میں طالبان کی صفوں کے ایک بااثر اور مضبوط کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، وہ بدخشان کے مقامی علاقوں میں واقع سونے کی کانوں اور معدنی ذخائر سے زبردستی حصہ اور بھتہ وصول کرنے میں ملوث رہے ہیں، جبکہ افغانستان میں طالبان کی مرکزی حکومت قائم ہونے کے باوجود وہ علاقے کے مکینوں سے زبردستی غیر قانونی عشر وصول کرتے تھے اور اسے اپنا مسلمہ حق قرار دیتے تھے۔ اپنی اسی من مانی کی بنیاد پر انہوں نے ریاست کے اندر ایک ’موازی حکومت‘ قائم کر رکھی تھی اور مرکزی حکومت کے تمام انتظامی و نظامی احکامات کو ماننے سے مسلسل انکاری تھے۔
حکومتی آپریشن اور گرفتاری
طالبان کی مرکزی قیادت نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدخشان کے معدنی وسائل پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھنے پر ان کے خلاف حتمی اور سخت سیکیورٹی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ طالبان فورسز کے ایک بڑے اور بھاری دستے کے بدخشان پہنچنے اور ضلع نسی میں گھراؤ کے بعد دونوں فریقین میں شدید جھڑپیں بھی ہوئی، مگر بالآخر سیکیورٹی فورسز کا دائرہ تنگ ہونے پر گزشتہ روز پہلے ان کے مسلح ساتھیوں نے ہتھیار ڈالے اور بعد ازاں جمعہ خان فاتح نے بھی خود کو افغان فورسز اور حکام کے سامنے سرینڈر کر دیا۔
جمعہ خان فاتح کا مستقبل کیا ہوگا؟
طالبان حکومت کا سیکیورٹی ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ملک میں اپنی حکومتی رٹ کے خلاف کسی بھی قسم کی مسلح بغاوت، داخلی سرکشی یا سیاسی مخالفت کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ طالبان حکومت نے ملک بھر میں اپنے خلاف ہر قسم کی تحریک، مخالفت اور حتیٰ کہ عوامی احتجاجی مظاہروں پر بھی سخت پابندی عاید کر رکھی ہے۔
اس سخت گیر پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان سیکیورٹی اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ کابل منتقل کیے جانے کے بعد جمعہ خان فاتح کا کیس طالبان کی خصوصی عدالت کے سپرد کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ان پر ریاست کے خلاف بغاوت، موازی حکومت کے قیام اور غیر قانونی رقم و عشر کی وصولی جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلا کر سزائے موت یا عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، جمعہ خان فاتح جیسے بااثر باغی کمانڈر کی گرفتاری اور کابل منتقلی طالبان کی مرکزی قیادت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس پیش رفت سے جہاں شمالی افغانستان میں داخلی بغاوت کے امکانات کو بڑا دھچکا لگا ہے، وہیں ملک بھر میں مرکزی حکومت کا کنٹرول مزید مستحکم ہوگا۔
