اربیل/بغداد (پاک ٹوڈے): عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن کے دارالحکومت اربیل میں وزیراعظم کے دفتر پر دو خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی ہے۔ سیکیورٹی حکام اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
کردستان ریجنل گورنمنٹ (KRG) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی شواہد اور تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈرونز براہِ راست ایرانی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔ واقعے کے فوری بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس اداروں نے واقعے کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے درمیان جغرافیائی و سیاسی کشیدگی شدید تر ہو چکی ہے۔ اربیل کا خطہ ماضی میں بھی امریکی فوجی تنصیبات، قونصل خانے اور اہم سفارتی و سرکاری مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں کا مرکز بنتا رہا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے فی الحال کردستان حکومت کے اس الزام پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اربیل میں پیش آنے والا یہ واقعہ خطے میں جاری ایران امریکا کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے، جس سے عراق بالخصوص کردستان کا حساس خطہ ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی کشمکش کی آماجگاہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
