اسلام آباد (پاک ٹوڈے): دفتر خارجہ نے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق بیڈیاں سیکٹر میں بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ دفتر خارجہ نے احتجاجی مراسلہ بھارتی ناظم الامور کے حوالے کیا۔
دفتر خارجہ نے بھارتی فورسز کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر فائرنگ کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے مارے جانے والے شہریوں کو مبینہ طور پر درانداز قرار دینے کی کوشش بھی مسترد کردی۔ بیان میں کہا گیا کہ نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال بنیادی انسانی حقوق اور حق زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق واقعے سے بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ بھارت واقعے کی فوری، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائے۔
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت تحقیقات کے نتائج اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے پاکستان کو آگاہ کرے، بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنائے اور سرحدی معاملات میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شہریوں میں عظمت رسول ولد عطااللہ اور محسن جٹ شامل ہیں، جن کا تعلق جٹاں والی حویلی، لدھڑ سے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں شہریوں میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ کو بارڈر معاہدے اور طے شدہ ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
