نعیم اچکزئی کی رپورٹ
چمن پاک افغان سرحد وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی اور معاشی راہداری کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور سرحد پر نافذ العمل نئی پالیسیوں اور پابندیوں کے باعث اکتوبر میں اس اہم تجارتی راستے کی بندش کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ ایک سال سے مسلسل جاری اس تعطل کے نتیجے میں نہ صرف دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کو شدید دھچکا پہنچا ہے، بلکہ سرحدی علاقوں، بالخصوص چمن اور گرد و نواح میں معاشی سرگرمیاں بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
حکومتی اور چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے دونوں ممالک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ مقامی سطح پر تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور عام شہری شدید انسانی اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔
چمن پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر حاجی عبدالغنی اور تجارتی حلقوں کے مطابق، بارڈر کی بندش کے اثرات درج ذیل معاشی نقصانات کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کا معاشی نقصان تقریباً 2 ارب 68 کروڑ ڈالر، جبکہ افغانستان کا معاشی نقصان تقریباً 1 ارب 28 کروڑ ڈالر ہوا ہے۔ اس طرح مجموعی معاشی نقصان 3 ارب 96 کروڑ ڈالر، یعنی تقریباً 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔
یہ نقصان صرف براہِ راست تجارت تک محدود نہیں، بلکہ ٹیکسوں، کسٹمز ڈیوٹی اور پورٹ ہینڈلنگ کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
چمن بارڈر کی بندش سے قبل روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا سامان سرحد کے آر پار منتقل ہوتا تھا۔ پاکستان سے افغانستان کو برآمد کی جانے والی اشیا میں چاول، چینی، آٹا، اناج، تازہ پھل اور سبزیاں، کیلے، سیب، آلو، پیاز اور دیگر سبزیاں شامل تھیں، جبکہ صنعتی اشیا میں سیمنٹ، کپاس، کپڑا، کاٹن اور دیگر تعمیراتی مواد برآمد کیے جاتے تھے۔
جبکہ افغانستان سے پاکستان کو درآمد ہونے والے صنعتی اور تجارتی سامان میں الیکٹرانکس اور دیگر تجارتی الیکٹرانک مصنوعات، خشک اور تازہ پھل، میوہ جات، ڈرائی فروٹ، انار، انگور اور دیگر پھل، پیاز سمیت مختلف سبزیاں اور دیگر درآمد شدہ زرعی اجناس شامل تھیں۔
زرعی شعبے پر اثرات کے حوالے سے بارڈر کی بندش کی وجہ سے دونوں جانب کے کاشتکاروں، کسانوں اور پھلوں و سبزیوں کے تاجروں کی نقد آور فصلیں اور جلد خراب ہونے والی اجناس ضائع ہوئیں، جس سے زرعی معیشت کو اربوں روپے کا دھچکا لگا۔
چمن چیمبر آف کامرس کے سابق صدر حاجی عمران کاکڑ کے مطابق، چمن اور اس کے مضافات کی پوری معیشت کا کلیدی انحصار اس تجارتی سرحد پر ہے۔ بارڈر کی طویل بندش نے درج ذیل شعبوں کو سخت متاثر کیا ہے۔
کسبِ معاش اور دیہاڑی دار مزدور: قلی، لوڈنگ اور ان لوڈنگ کرنے والے مزدور اور ریڑھی بان بالکل بے روزگار ہو چکے ہیں۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر: ہزاروں ٹرکوں، ٹریلرز اور پک اپ گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے۔
گودام مالکان: گوداموں کے کرائے اور دیکھ بھال کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
دیگر کاروبار: بارڈر روٹ پر قائم ہوٹل، ریسٹورنٹس، پیٹرول پمپس، ورکشاپس اور ٹائر پنکچر کی دکانیں شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔
کاروباری سرگرمیاں بند ہونے کے باعث چمن کے ہزاروں خاندانوں میں غربت اور بے روزگاری بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی دشوار ہو چکی ہے۔
پاک افغان سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی و بارڈر مینجمنٹ پالیسیوں کے پیشِ نظر اس تعطل کو ایک سال بیت چکا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان وقتاً فوقتاً مذاکرات اور اجلاس منعقد ہوئے ہیں، تاہم تجارتی سرگرمیوں اور عوام کی آمدورفت کی مکمل اور مستقل بحالی کے لیے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی اور ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
تاجر رہنماؤں، چیمبرز آف کامرس اور مقامی برادری کی جانب سے درج ذیل تجاویز اور حل پیش کیے گئے ہیں:
سیاسی و سفارتی حل: دونوں ممالک کی حکومتیں، اسلام آباد اور کابل، سیکیورٹی خدشات کو سفارتی میز پر حل کریں اور تجارت کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھیں۔
قانونی اور منظم تجارت: تجارت کے لیے نرم اور آسان طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ تاجر برادری کا اعتماد بحال ہو سکے۔
آمدورفت کی بحالی: تجارتی گاڑیوں اور مقامی لوگوں کی آمدورفت کے لیے واضح اور مستقل پالیسی تشکیل دی جائے۔
معاشی ریلیف: ایک سال سے شدید معاشی بحران کا شکار تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مزدوروں کے لیے معاشی ریلیف اور آسان شرائط پر اقدامات کیے جائیں۔
چمن پاک افغان بارڈر صرف دو پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی نقطہ نہیں، بلکہ یہ وسطی ایشیا تک پاکستان کی تجارت کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ ایک سالہ بندش نے نہ صرف اربوں ڈالر کا معاشی نقصان کیا ہے، بلکہ سرحدی عوام کو ایک گہرے معاشی اور انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس مسئلے کا فوری، پائیدار اور معقول سفارتی حل نکالنا دونوں ممالک کے وسیع تر معاشی مفاد میں ہے۔
