1
ڈاکٹر سید اختر علی شاہ
نائن الیون کے بعد بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ایک نئی اور کہیں زیادہ خطرناک شکل میں سامنے آئی۔ خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بارودی سرنگوں اور آئی ای ڈیز کے دھماکے، پولیس تھانوں، چوکیوں، پولیس لائنز اور سکیورٹی فورسز پر منظم حملے اس نئی لہر کی نمایاں صورتیں بن گئیں۔
اس وقت سے لے کر آج تک خیبر پختونخوا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی تاریخ اپنے خون سے لکھ رہے ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوان شہید اور زخمی ہوئے، مگر انہوں نے ریاست اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑا۔
2007 سے 2009 کے دوران سوات اور ملحقہ علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں، خصوصاً 2009 کے بڑے آپریشن کے بعد وہاں امن و امان میں نمایاں بہتری آئی۔ بعدازاں 2014 میں شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب اور دیگر انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ دستیاب سکیورٹی ڈیٹا بھی ظاہر کرتا ہے کہ 2015 سے 2020 تک تشدد میں مسلسل کمی کا رجحان رہا، مگر 2021 سے یہ رجحان دوبارہ الٹنا شروع ہوگیا۔
2021 کے بعد دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھایا اور اس کے بعد اس کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ CRSS کے مطابق 2021 سے 2025 تک ملک میں تشدد میں مسلسل سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا اس نئی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل رہا۔
حالیہ کوہاٹ پولیس لائنز حملہ اسی تشویشناک سلسلے کی ایک انتہائی سنگین کڑی ہے۔ 18 ستمبر 2026 کو بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے قریب مسجد کے مقام پر دھماکے سے اڑائی گئی، جس کے بعد مسلح دہشت گرد کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اور پولیس و سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کئی گھنٹوں تک مقابلہ جاری رہا۔ بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور شہری شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ بعدازاں کلیئرنس آپریشن میں حملہ آور بھی مارے گئے۔
پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بہادری اور قربانی کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان دہشت گردوں کے مارے جانے کے ساتھ دہشت گردی کا یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا؟
تجربہ اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔
اس سے پہلے بھی بڑے حملوں کے بعد حملہ آور مارے گئے، ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے اور کئی اہم دہشت گرد کمانڈر ہلاک ہوئے۔ لیکن کچھ عرصے بعد پہلے سے زیادہ منظم، زیادہ پیچیدہ اور بعض اوقات زیادہ تباہ کن حملہ سامنے آ گیا۔
اس لیے محض ہر حملے کے بعد دہشت گردوں کا تعاقب اور خاتمہ کافی نہیں۔ اب بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کی تنظیمی مشینری کیسے کام کر رہی ہے؟
ریاست کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تنظیمیں اپنے کارکن کہاں اور کیسے بھرتی کرتی ہیں؟ نوجوانوں کو کس طرح اپنے بیانیے سے متاثر کرتی ہیں؟ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کیا ہے؟ وہ آپس میں رابطہ کیسے رکھتے ہیں؟ ان کی تربیت کہاں ہوتی ہے؟ اسلحہ اور بارودی مواد کہاں سے آتا ہے؟ مالی وسائل کون فراہم کرتا ہے؟ سہولت کار کون ہیں؟ ان کے لیے محفوظ ٹھکانے کہاں ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا پروپیگنڈا اور نظریاتی اثر و رسوخ کس طرح پھیل رہا ہے؟
جب تک ان سوالات کے جوابات ریاست کے پاس پیشگی طور پر موجود نہیں ہوں گے، ہم ایک حملے کے بعد دوسرے حملے کا انتظار کرتے رہیں گے۔
دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی۔ اس کا سب سے اہم ہتھیار موثر اور بروقت انٹیلی جنس ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو حقیقت پسندی کے ساتھ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ محض ردِعمل پر مبنی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان ایسا مربوط نظام قائم کرنا ہوگا جس کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کی نقل و حرکت، تنظیم سازی، مالی وسائل، بھرتی، سہولت کاری اور منصوبہ بندی کے بارے میں بروقت معلومات حاصل ہوں۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ دہشت گرد حملہ کر دے اور پھر ہم اسے مار دیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ریاست کو حملے سے پہلے معلوم ہو کہ حملہ کہاں، کیسے اور کس کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔
یہی فرق Reactive Mode اور Offensive/Preventive Mode میں ہے۔ ہمیں ردِعمل کی حکمتِ عملی سے نکل کر پیش بندی کی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ دہشت گرد کو اس وقت روکنا ہوگا جب وہ بھرتی کر رہا ہو، جب وہ فنڈ جمع کر رہا ہو، جب وہ تربیت حاصل کر رہا ہو، جب وہ سہولت کار تلاش کر رہا ہو اور جب وہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہو — نہ کہ صرف اس وقت جب وہ بارود سے بھری گاڑی لے کر پولیس لائنز کے دروازے تک پہنچ چکا ہو۔
پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں ایسی انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی، وسائل اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کرے جس سے وہ ہمیشہ دہشت گرد کے ایک قدم پیچھے نہیں بلکہ کئی قدم آگے ہوں۔
دہشت گردی کا مقابلہ صرف دہشت گرد کو مارنے کا نام نہیں؛ دہشت گردی پیدا کرنے، منظم کرنے، مالی معاونت فراہم کرنے اور اسے عملی حملے میں تبدیل کرنے والے پورے نظام کو توڑنا اصل انسدادِ دہشت گردی ہے۔
جب ریاست اس مقام تک پہنچ جائے کہ اسے دہشت گرد کی ہر اہم حرکت کی پیشگی خبر ہو، تب ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دفاعی پوزیشن سے نکل کر حقیقی طور پر پیش قدمی کر رہے ہیں
