رپورٹ: شاہین افریدی
پاکستان میں غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی گرفتاریوں اور وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ پشاور میں یکم نومبر سے ممکنہ کارروائی کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے اداروں کی تازہ رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران پاکستان سے 3 ہزار 883 افغان شہری افغانستان واپس گئے، جن میں 499 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔ اسی عرصے میں 517 افغان شہریوں کی گرفتاری یا حراست کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
ذرائع کے مطابق پشاور میں کارروائی کے لیے پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری، ایف آئی اے اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر مشتمل 120 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ شہر کو پانچ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ 50 ٹیمیں بازاروں اور تجارتی مراکز میں تعینات ہوں گی۔ باقی 70 ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں، کینٹ، رنگ روڈ اور دیہی علاقوں میں کارروائی کریں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بازاروں، رہائشی علاقوں، کرائے کے مکانات اور تعلیمی اداروں میں غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی نشاندہی کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ تاہم کارروائی کے دائرہ کار اور طریقۂ کار سے متعلق سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
افغان باشندوں کی واپسی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر بھی بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت حکومتی شخصیات غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی پر زور دے چکی ہیں۔ پاکستانی حکومت اس عمل کو امیگریشن قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی قیام کی روک تھام سے جوڑتی ہے۔ دوسری جانب طورخم سرحد پر یکم نومبر سے متعلق انتظامات کے لیے اضافی عملے اور سہولتوں کی تیاری کی اطلاعات ہیں، تاکہ واپسی کے عمل کو منظم بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر، اور بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت، آئی او ایم، کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران واپس جانے والے افغان شہریوں میں 83 فیصد کے پاس سفری یا رہائشی دستاویزات نہیں تھیں، جبکہ 9 فیصد کے پاس افغان سٹیزن کارڈ اور 8 فیصد کے پاس رجسٹریشن کارڈ تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ملک بدری کے واقعات میں 48 فیصد کمی آئی، جبکہ مجموعی واپسیوں میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان اداروں کے مطابق گرفتاری کا خوف بھی افغان شہریوں کی واپسی کی ایک اہم وجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2023 سے 17 اکتوبر 2026 تک تقریباً 27 لاکھ 44 ہزار افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔
تاہم واپسی کے اس عمل کے ساتھ افغانستان میں آبادکاری کا سوال بھی اہم ہے۔ پاکستان سے واپس جانے والے بعض خاندانوں کو رہائش، خوراک، روزگار، علاج اور بچوں کی تعلیم جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کئی خاندان برسوں پاکستان میں رہنے کے بعد افغانستان واپس جا رہے ہیں، جہاں ان کے لیے مستقل آمدنی اور رہائش کا انتظام کرنا آسان نہیں۔ امدادی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ واپس جانے والے خاندانوں، خصوصاً خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر کمزور افراد کی ضروریات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ پشاور میں یکم نومبر سے شروع ہونے والی ممکنہ کارروائی کے دوران کتنے افغان باشندوں کی نشاندہی اور واپسی عمل میں آتی ہے، اور افغانستان میں واپس جانے والے خاندانوں کے لیے رہائش، روزگار اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے کیا انتظامات موجود ہیں۔
