نعیم اچکزئی کی رپورٹ
پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ملک بدری یا انخلا کا باقاعدہ آغاز اکتوبر 2023 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد وفاقی حکومت نے مختلف مراحل میں اس مہم کو آگے بڑھایا۔
اکتوبر 2023 میں حکومتِ پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کی مہم شروع کی۔ اپریل 2025 میں رضاکارانہ واپسی اور انخلا کے اگلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ جولائی اور اگست 2025 میں پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین اور دیگر افغان باشندوں کی واپسی کے لیے بھی احکامات جاری کیے گئے۔ مارچ 2026 میں افغان مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے نئے سرکاری اعلامیے اور اقدامات بھی سامنے آئے۔
پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کے انخلا کی بنیادی وجوہات میں سے چند یہ ہے۔
سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کا تدارک: حکومتِ پاکستان کے مطابق، ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتِ حال میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد بھی ملوث ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
افغان عبوری حکومت پر دباؤ: تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پالیسی کا ایک مقصد افغانستان کی طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنا بھی ہے تاکہ وہ سرحدی علاقوں سے پاکستان کے خلاف ہونے والی عسکری کارروائیوں اور دہشت گردی کو روکے۔
غیر قانونی طور پر مقیم افراد کا انخلا: بغیر قانونی دستاویزات، ویزے یا باقاعدہ اندراج کے پاکستان میں رہنے والے غیر ملکیوں کو واپس بھیجنا حکومت کی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔
معاشی اور انتظامی بوجھ: کئی دہائیوں سے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کرنے کے بعد پاکستان اپنی معیشت، وسائل اور انتظامی نظام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا چاہتا ہے۔
حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے حتمی ڈیڈ لائنز مقرر کیں، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر انخلا اور ملک بدری کا عمل جاری رکھا گیا۔
اس سلسلے میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی رضاکارانہ اور باقاعدہ واپسی کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کی جانب سے دی گئی سات روزہ مہلت ختم ہو گئی ہے۔ ڈیڈ لائن مکمل ہونے کے بعد آج سے ضلعی انتظامیہ اور ایف سی کے باہمی تعاون اور رابطہ کاری کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی گرفتاریوں اور انخلا کے باضابطہ عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
نوٹس کی ڈیڈ لائن
فرنٹیئر کور بلوچستان نے 19 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ سات روز کے اندر اپنے مکانات اور دکانیں خالی کرکے باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹ جائیں۔
ایف سی بلوچستان کے ترجمان کے مطابق، اس آگاہی مہم کا مقصد شہریوں کو قانونی طریقۂ کار سے آگاہ کرنا اور باوقار انخلا کو یقینی بنانا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس عمل کے دوران افغان مہاجرین کے ساتھ کسی بھی قسم کا غیر قانونی یا غیر انسانی رویہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ایف سی بلوچستان کی بنیادی ذمہ داری تمام شہریوں کی حفاظت اور ان کی جان، مال اور آبرو کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
کوئٹہ کے متاثرہ اور نشان دہی شدہ علاقے
ایف سی اور ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ کے درج ذیل اہم اور ملحقہ علاقوں میں مقیم افغان خاندانوں کو مکانات اور کاروباری مراکز خالی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان علاقوں میں بوسہ منڈی، سیٹلائٹ ٹاؤن، پشتون آباد، حاجی غیبی روڈ، خیبر درہ، کلی درانی، رحمت کالونی نمبر 1 اور رحمت کالونی نمبر 2، اسماعیل کالونی، رشید چوک، تارو چوک، ملا عبدالسلام کا علاقہ، سریاب روڈ اور جتک اسٹاف شامل ہیں۔
ایف سی بلوچستان نے ان علاقوں میں مقیم متاثرہ افغان خاندانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے رہائشی اور کاروباری امور سمیٹ کر واپسی کے حتمی انتظامات مکمل کریں، جبکہ متعلقہ اہلکار اس عمل کے دوران ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
کوئٹہ کے تارو چوک سے تعلق رکھنے والے افغان مہاجر محمد خان کے مطابق، ان کی پیدائش کوئٹہ میں ہوئی اور وہ چار بھائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سب سے بڑے بھائی ہیں اور ان کی عمر تقریباً 35 سال ہے۔ ان کے خاندان کا کاروبار بھی یہیں تھا، تاہم حکومتی فیصلے کے بعد انہیں رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانا پڑے گا۔
محمد خان نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے وہ اپنے کاروباری معاملات سمیٹنے میں مصروف تھے۔ ان کے بقول، افغانستان واپس جا کر بھی وہ خود کو اجنبی محسوس کریں گے، کیونکہ وہاں ان کے لیے روزگار کے مواقع موجود نہیں ہیں۔
چمن کے راستے واپسی
ہولڈنگ کیمپ اور نادرا کا بائیومیٹرک نظام
حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت حراست میں لیے جانے والے افراد اور رضاکارانہ طور پر سرحد کی جانب جانے والے مہاجرین کو پاک افغان سرحد پر بابِ دوستی، چمن کے قریب قائم خصوصی ہولڈنگ کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
بائیومیٹرک رجسٹریشن
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی ٹیمیں تمام افراد کی بائیومیٹرک تصدیق اور قانونی معلومات کا اندراج کر رہی ہیں۔
روزانہ کی رجسٹریشن
نادرا حکام کے مطابق، اس وقت روزانہ 600 سے زائد افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور ڈیٹا پروسیسنگ مکمل کی جا رہی ہے۔
مجموعی انخلا کے اعدادوشمار
حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق، چمن کی اس تجارتی اور سرحدی گزرگاہ کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر 7 لاکھ 78 ہزار 547 افغان مہاجرین افغانستان واپس جا چکے ہیں۔
انتظامی اقدامات اور آئندہ کا لائحۂ عمل
ضلعی انتظامیہ، پولیس اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ ٹاسک فورسز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تلاشی، چیکنگ اور قانونی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں تاکہ قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کا احترام کیا جائے گا اور سکیورٹی ضوابط کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے گی۔
