تحریر: آصف نثار غیاثی
کچھ معاملات بے حس ترین لوگوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ آج ہمارا موضوع بھی ایک ایسا ہی سفاک معاملہ ہے، جس پر انسانیت شرمسار ہے۔
انسانی معاشرے میں کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو محض افسوس کا باعث نہیں بنتیں، بلکہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ دل یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہم کس معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ رشتوں کا تقدس کہاں چلا گیا؟ والدین کی شفقت، باپ کی ذمہ داری اور اولاد کے تحفظ کا وہ تصور کہاں گم ہو گیا جسے انسانی تہذیب کی بنیاد سمجھا جاتا ہے؟
معاشرے کی شفافیت اور خالصیت کے لیے رشتوں کا تقدس بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب یہ بنیاد کمزور ہونے لگے تو صرف معاشرے ہی نہیں، مکمل تہذیبیں بھی دم توڑ دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہم بھی اب تہذیبی اور سماجی خودکشی کی راہ پر گامزن دکھائی دے رہے ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے ایک شخص کی گرفتاری کے حوالے سے سامنے آنے والی خبر بھی اسی نوعیت کی ہے۔ حکام کے مطابق، گرفتار شخص پر اپنے ہی کم عمر بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ویڈیوز بنانے اور انہیں آن لائن فروخت کرنے کا الزام ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس اور کرپٹو کرنسی استعمال کی گئی۔
اگر تحقیقات میں یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں ہوگا، بلکہ ہمارے معاشرتی ضمیر، انسانی اقدار اور بچوں کے تحفظ کے نظام کے لیے ایک انتہائی سنگین سوال ہوگا۔
باپ کا تصور ذہن میں آتے ہی تحفظ، شفقت، قربانی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بچہ دنیا کے خطرات سے بے خبر ہوتا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون اس کے لیے محفوظ ہے اور کون اس کی معصومیت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہ اپنے والدین پر اعتماد کرتا ہے، کیونکہ اسی اعتماد پر اس کی پوری دنیا قائم ہوتی ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص اسی اعتماد کو اپنے مفاد، ہوس یا مالی فائدے کے لیے استعمال کرے تو وہ صرف بچے کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ اس رشتے کی بنیاد پر بھی حملہ کرتا ہے جسے معاشرہ سب سے زیادہ قابلِ احترام سمجھتا ہے۔
یہاں سوال صرف ایک مبینہ ملزم کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پیسے کی خواہش انسان کو اس حد تک اندھا کر سکتی ہے کہ اسے اپنے بچوں کی عزت، سلامتی اور مستقبل بھی نظر نہ آئے؟
پیسہ کمانے کے بے شمار راستے ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بچے کی معصومیت کو کاروبار بنا لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انٹرنیٹ نے تعلیم، معلومات، کاروبار اور رابطوں کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن اسی ڈیجیٹل دنیا میں بعض مجرم بچوں کو نشانہ بنانے، انہیں خوف زدہ کرنے، ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کے استحصال سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خفیہ آن لائن گروپس، جعلی شناختیں، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذرائع جرائم کی تحقیقات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، ٹیکنالوجی خود مجرم نہیں؛ اصل مسئلہ اسے استعمال کرنے والے افراد، ان کے جرائم اور ان جرائم کو روکنے میں موجود کمزوریاں ہیں۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں کا تحفظ صرف موبائل فون چھین لینے یا انٹرنیٹ بند کر دینے سے ممکن نہیں۔ بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل استعمال سکھانا، ان کی بات سننا، ان کے رویوں میں غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دینا اور ان کے لیے ایسا ماحول بنانا ضروری ہے جہاں وہ کسی خطرے کی صورت میں بلاخوف اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بالغ شخص کو آگاہ کر سکیں۔
بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے معاملات میں اکثر متاثرہ بچے خوف، شرمندگی، دھمکی یا اپنی بات سمجھانے میں دشواری کے باعث خاموش رہ جاتے ہیں۔ بعض اوقات خاندان کی بدنامی کا خوف بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ ایسے واقعات سامنے لانے سے خاندان کی عزت ختم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عزت متاثرہ بچے کی خاموشی میں نہیں، بلکہ اس کے تحفظ، اس کی مدد اور مجرم کو قانون کے کٹہرے تک پہنچانے میں ہے۔ اگر کسی بچے کو نقصان پہنچا ہے تو اسے الزام دینے، اس سے سخت سوالات کرنے یا اس کی بات کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی حفاظت اور نفسیاتی بحالی کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس کے ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ بچوں کی شناخت، تصاویر، ویڈیوز یا ایسی معلومات شیئر نہ کریں جن سے ان کی شناخت ظاہر ہو سکتی ہو۔ کسی جرم کی مذمت کرتے ہوئے بھی متاثرہ بچے کی عزتِ نفس اور مستقبل کو نقصان سے بچانا ضروری ہے۔
اس سلسلے میں ممتاز مذہبی اسکالر مفتی سراج الحسن کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب بچوں پر شفقت، امانت کی حفاظت، ظلم سے اجتناب اور کمزوروں کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ والدین کو اولاد کے لیے ذمہ دار بنایا گیا ہے، انہیں اپنی اولاد کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا اختیار نہیں دیا گیا۔
ایف جی کالج پشاور کے پرنسپل پروفیسر محمد شعیب کا کہنا ہے کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ بچے کو ایک مکمل انسان اور عزت و حقوق رکھنے والی شخصیت سمجھا جائے، نہ کہ کسی بالغ فرد کی خواہش یا مالی مفاد کا ذریعہ۔
اس سلسلے میں ایڈووکیٹ حبیب ثانی کا کہنا ہے کہ قانون کا تقاضا ہے کہ ایسے الزامات کی غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں، ڈیجیٹل شواہد محفوظ کیے جائیں، دوسرے ممکنہ ملزمان اور سہولت کاروں تک پہنچا جائے اور اگر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اس سارے عمل کے دوران متاثرہ بچوں کو تحفظ، رازداری اور ضروری نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔
یہ واقعہ چند بنیادی اقدامات کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ سب سے پہلے، بچوں کے خلاف آن لائن جنسی استحصال کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم اداروں کی تکنیکی صلاحیت، تربیت اور بین الاقوامی تعاون کو مؤثر بنایا جائے۔
دوسرے نمبر پر، اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو عمر کے مطابق ڈیجیٹل تحفظ کی تعلیم دی جائے، تاکہ وہ نامناسب رابطوں، بلیک میلنگ، لالچ اور آن لائن استحصال کے خطرات کو پہچان سکیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ والدین بچوں کے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال پر مناسب توجہ دیں، لیکن ایسا کرتے ہوئے ان کے ساتھ اعتماد اور کھلے مکالمے کا رشتہ بھی قائم رکھیں۔
چوتھی بات یہ ہے کہ متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ شکایتی نظام، قانونی معاونت، رازداری اور تربیت یافتہ ماہرین کی مدد یقینی بنائی جائے۔
پانچواں، مگر سب سے اہم امر یہ ہے کہ کسی بھی مشتبہ مواد کو آگے بھیجنے یا سوشل میڈیا پر پھیلانے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔ ایسے مواد کو شیئر کرنا متاثرہ بچے کے نقصان میں اضافہ کر سکتا ہے اور قانونی مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔
کسی ملزم کی گرفتاری ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، لیکن صرف گرفتاری سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات کتنی مؤثر ہوتی ہیں، متاثرہ بچوں کو کتنا تحفظ ملتا ہے، دوسرے ممکنہ ملزمان تک قانون کی رسائی ہوتی ہے یا نہیں، اور مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی معاشرے کی اخلاقی حالت کا اندازہ صرف اس کے نعروں، دعوؤں اور مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور افراد، خصوصاً بچوں، کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔
ایک بچہ اپنے باپ سے تحفظ کی امید رکھتا ہے، اپنے گھر میں سکون تلاش کرتا ہے اور اپنے خاندان میں اعتماد کرنا سیکھتا ہے۔ اگر اسی اعتماد کو کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے پامال کرے تو اس بچے کے ساتھ ہونے والا ظلم اس کے جسم یا ذہن تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے احساسِ تحفظ اور رشتوں پر اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اس لیے یہ معاملہ محض ایک سنسنی خیز خبر نہیں بننا چاہیے۔ اسے بچوں کے تحفظ، والدین کی ذمہ داری، ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام اور معاشرتی اصلاح کے لیے ایک سنجیدہ تنبیہ سمجھنا چاہیے۔ بچوں کی معصومیت کوئی تجارت نہیں، ان کا اعتماد کوئی کمائی نہیں اور ان کا تحفظ کسی بھی معاشرے پر احسان نہیں، بلکہ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اگر ہم واقعی ایک محفوظ، مہذب اور بااخلاق معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو صرف زندہ رکھنے کی نہیں، بلکہ انہیں خوف، استحصال اور ظلم سے محفوظ رکھنے کی فکر بھی کرنا ہوگی، کیونکہ بچوں کا تحفظ دراصل ہمارے مستقبل کا تحفظ ہے۔
