پشاور (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد قائم قبائلی کونسل کے نائب چیئرمین ملک خان مرجان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے 15 سے 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل بااختیار وفد افغانستان بھیجا جائے۔
ملک خان مرجان کے مطابق وفد کو سرکاری حیثیت اور مکمل اختیارات دے کر ایک ہفتے کے لیے افغانستان بھیجا جائے تاکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، حافظ گل بہادر اور سرحد پار سرگرم دیگر عسکریت پسند گروہوں کے تحفظات سنے جا سکیں اور تنازع کے حل کی راہ نکالی جا سکے۔
انہوں نے طالبان سے مذاکرات کو امن کی بحالی کا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بات چیت کے نتیجے میں پاکستان میں 90 دن تک کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے علاوہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں۔
ملک خان مرجان نے ملک کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ قبائلی عمائدین کو افغانستان جا کر بات چیت کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کے مطابق کامیاب مذاکرات سے سرحد پار حملے روکنے، سابق قبائلی اضلاع میں امن بحال کرنے اور مقامی آبادی کو معمول کی زندگی اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد 12 متاثرہ اضلاع کے انتظامی امور کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) قائم کی ہے، جس کے نائب چیئرمین ملک خان مرجان ہیں۔
