ریاض حسین
پشاور: پشاور یونیورسٹی کے ملازمین نے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کو درپیش مالی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کلاس تھری، کلاس فور، صفائی کے عملے اور پنشنرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مئی کی تنخواہیں اور پنشن تاحال ادا نہیں کی گئیں، جبکہ اپریل کی پنشن کا 50 فیصد حصہ بھی واجب الادا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر کے باعث ملازمین کے گھریلو اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔ انہیں روزمرہ ضروریات پوری کرنے، بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے اور دیگر اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پی یو ٹی اے) کے صدر ذاکر خان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے تقریباً 1,300 ملازمین، جن میں اساتذہ، افسران اور دیگر عملہ شامل ہے، تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض ملازمین کو ایک سے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔
انہوں نے کہا کہ پنشنرز کو بھی ماہانہ پنشن، کمیوٹیشن اور ریٹائرمنٹ کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے لیے روزمرہ مالی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ذاکر خان نے مالی بحران کی بنیادی وجوہات میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے ناکافی گرانٹس اور یونیورسٹی کے اندرونی وسائل کے ناقص انتظام کو قرار دیا۔ انہوں نے مالی معاونت میں اضافے اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یونیورسٹی کو مالی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو اساتذہ احتجاج یا ہڑتال پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ تاہم، تدریسی سرگرمیاں متاثر ہونے اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر وہ فی الحال ایسے اقدامات سے گریز کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے مختلف الاؤنسز کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA-2022)، 15 فیصد الاؤنس اور DRA-2025 شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم سے قبل ملازمین کو ملنے والے بعض الاؤنسز بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
ملازمین نے الزام عائد کیا کہ فنڈز کے اجرا کے لیے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو بھیجی گئی سمری تاحال منظوری کی منتظر ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مئی اور جون کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ادائیگیوں میں تاخیر کا سلسلہ برقرار رہا تو وہ قلم چھوڑ ہڑتال اور کام کے بائیکاٹ کی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
مالی بحران صرف پشاور یونیورسٹی تک محدود نہیں
پشاور یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات خیبر پختونخوا کی دیگر سرکاری جامعات کو لاحق وسیع تر مالی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبے کی سات سرکاری جامعات کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ 20 جامعات کے بجٹ خسارے کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
ان جامعات میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور، گومل یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف شانگلہ اور یونیورسٹی آف ملاکنڈ شامل ہیں۔
اپریل 2026 میں پشاور ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ پشاور یونیورسٹی کو 2 ارب 7 کروڑ روپے کے مالی خسارے کا سامنا ہے، جس کے باعث تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ملک بھر میں بھی اعلیٰ تعلیم کا شعبہ مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے سرکاری جامعات کی مستقل گرانٹس کی مد میں 100 ارب روپے طلب کیے تھے، جبکہ اس کی مجموعی مالی ضرورت 138 ارب روپے بتائی گئی تھی۔ تاہم، حکومت کی جانب سے 65 ارب روپے کی بجٹ حد مقرر کیے جانے سے جامعات کی مالی ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔
گورنر کا جامعات کے لیے فنڈز اور تعلیمی معیار بہتر بنانے پر زور
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سرکاری جامعات کے لیے مناسب فنڈز کی فراہمی، وظائف میں اضافے اور ملازمین کی تنخواہوں و پنشن کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اعلیٰ تعلیم سے متعلق ایک اجلاس کے دوران گورنر نے کہا کہ اگرچہ صوبے کے ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی موجود ہے، تاہم اصل چیلنج معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے پشاور یونیورسٹی کی تحقیقی کارکردگی کو سراہتے ہوئے صوبے کی جامعات کی ترقی اور بہتری کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صوبائی محکمہ اعلیٰ تعلیم کے درمیان بہتر رابطہ کاری سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔
