آصف نثار غیاثی
جب سے گورنر راج لگا ہے، خیبرپختونخوا کے معدنی ذخائر ایک بار پھر زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ذمہ داران پی ٹی آئی کو تباہی کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ مائن اونرز ایسوسی ایشن اس الزام کو غلط قرار دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے معدنی ذخائر کے حوالے سے ریکارڈ اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، اس وقت صوبے میں اربوں روپے کی غیر قانونی مائننگ ہو رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا قدرتی وسائل، معدنی دولت، آبی ذخائر اور قدرتی حسن کے اعتبار سے پاکستان کے اہم ترین صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سرزمین کے پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں میں قدرت نے قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر رکھے ہیں، جو اگر شفاف منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور قانون کے مطابق استعمال کیے جائیں تو نہ صرف صوبے کی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کی خوشحالی، روزگار کے مواقع اور قومی خزانے میں اضافے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ مگر جب یہی قدرتی دولت غیر قانونی مائننگ، مبینہ بھتہ خوری، انتظامی غفلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی نذر ہونے لگے تو یہ محض معدنی وسائل کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کا ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دریائے سندھ کے کنارے صوابی سے لے کر کوہاٹ، شکردرہ اور خوشحال گڑھ تک سونا نکالنے کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوے بھی اسی نوعیت کے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن کے ان دعوؤں کے مطابق، دریائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پلیسر گولڈ (Placer Gold) نکالا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی معدنی دولت حاصل ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کو قانونی رائلٹی کی مد میں مطلوبہ آمدن نہیں مل رہی۔ اگر ان الزامات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ صوبے کے قدرتی وسائل کے انتظام اور حکومتی نگرانی کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو مبینہ مالی نقصان ہے۔ دستیاب معلومات اور پیش کیے گئے دعوؤں کے مطابق، غیر قانونی مائننگ کے ذریعے ماہانہ تقریباً 12 ارب روپے مالیت کا سونا نکالے جانے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اگر اس مالیت پر پانچ فیصد رائلٹی کا اطلاق کیا جائے تو ماہانہ رائلٹی 60 کروڑ روپے اور سالانہ رائلٹی 7 ارب 20 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسی طرح، سونے کی ہونے والی یہ غیر قانونی مائننگ سالانہ 145 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
جہاں تک رائلٹی کا تعلق ہے تو یہ اعداد و شمار، اگر درست ثابت ہوتے ہیں، تو ان کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ سات ارب 20 کروڑ روپے سالانہ ایک ایسی رقم ہے جس سے صوبے میں متعدد عوامی منصوبوں، ہسپتالوں کی بہتری، تعلیمی اداروں کی سہولتوں، سڑکوں کی تعمیر، پینے کے صاف پانی اور مقامی آبادی کی ترقی کے لیے وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ سونے کی حقیقی پیداوار، مارکیٹ ویلیو، قانونی رائلٹی کی شرح اور سرکاری وصولیوں کا مستند ریکارڈ سامنے لایا جائے، تاکہ مالی نقصان کی درست مقدار کا تعین ہو سکے۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر معدنی سرگرمیاں جاری ہیں تو متعلقہ محکمے ان کی نگرانی کیسے کر رہے ہیں؟ کتنی مشینری رجسٹرڈ ہے؟ کتنا سونا نکالا جا رہا ہے؟ کتنی پیداوار فروخت ہو رہی ہے؟ اور سرکاری خزانے میں کتنی رقم جمع ہو رہی ہے؟ ان سوالات کے جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ شفاف اعداد و شمار، آزادانہ تحقیقات اور باقاعدہ آڈٹ سے مل سکتے ہیں۔
مبینہ غیر قانونی مائننگ کے حوالے سے تقریباً 3,000 سے 3,700 ایکسیویٹرز کے استعمال کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں لوڈرز، ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر مشینیں بھی اس سرگرمی میں مصروف بتائی جاتی ہیں۔ اگر یہ تعداد درست ہے تو یہ کوئی چھوٹا یا خفیہ کاروبار نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر جاری ایک ایسا آپریشن ہے جس کے لیے بھاری مشینری، ایندھن، نقل و حمل، افرادی قوت اور منظم تجارتی روابط درکار ہوتے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی بڑی مشینری کی نقل و حرکت، دریائی علاقوں میں کھدائی، سونے کی دھلائی اور معدنی مواد کی ترسیل متعلقہ حکام کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ سکتی ہے؟ اگر غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی محکمۂ معدنیات کی جانب سے بھی کی گئی ہے تو ان کی روک تھام کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟ کتنی مشینری ضبط ہوئی، کتنے مقدمات درج ہوئے اور کتنے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی؟
اگر قانون میں غیر قانونی مائننگ میں استعمال ہونے والی مشینری ضبط کرنے کا اختیار موجود ہے تو اس کے مؤثر استعمال کے لیے واضح طریقۂ کار، شفاف کارروائی اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس قانون کے تحت کتنی کارروائیاں ہوئیں، کتنی مشینری ضبط کی گئی اور کتنے مقدمات اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔
اس مسئلے کا دیرپا حل صرف بیانات یا وقتی کارروائیوں میں نہیں بلکہ ایک جامع اور قابلِ عمل پالیسی میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے غیر قانونی مائننگ سے متاثرہ دریائی علاقوں کا مکمل سروے کرائے، سونے کے ذخائر اور پیداوار کا سائنسی تخمینہ لگائے اور تمام سرگرمیوں کا قانونی ریکارڈ مرتب کرے۔
لیز ہولڈرز کے لیے پیداوار کی باقاعدہ رپورٹنگ، معدنی مواد کی نقل و حمل کا ریکارڈ، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، آزادانہ آڈٹ اور رائلٹی کی بروقت ادائیگی لازمی قرار دی جائے۔ اس طرح حکومت کو معلوم ہوگا کہ کتنا سونا نکالا جا رہا ہے، اس کی مالیت کیا ہے اور سرکاری خزانے کو کتنی آمدن حاصل ہو رہی ہے۔
سات ارب روپے سے زیادہ کی ممکنہ آمدن، مگر پہلے حقائق کی تصدیق ضروری
اگر ماہانہ 12 ارب اور سالانہ 145 ارب روپے کی مبینہ پیداوار اور پانچ فیصد رائلٹی کے تخمینے درست ثابت ہوتے ہیں تو سالانہ 7 ارب 20 کروڑ روپے کی رائلٹی صوبائی خزانے کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، شفاف نیلامی کے ذریعے لیز فیس، قانونی ٹیکسوں اور دیگر واجبات کی صورت میں بھی حکومت کو آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
سالانہ سونے کی پیداوار کا مستند قومی ریکارڈ مرتب کیا جانا چاہیے۔ اگر معدنی پیداوار کی مقدار، مقام، معیار، فروخت اور قانونی وصولیوں کا قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود ہو تو حکومت بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے، سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ دے سکتی ہے اور معدنی شعبے کو ملکی معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
