اسلام الدین ساجد کی رپورٹ
پاکستان کے شہر کراچی میں منکی پاکس (ایم پاکس) کے باعث 53 روزہ بچہ جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد صوبہ سندھ میں رواں سال اس بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والا بچہ کراچی کے علاقے ملیر کا رہائشی تھا۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بچے کا 20 روز کی عمر میں ابنِ حسن اسپتال میں ختنہ کیا گیا تھا، جس کے چار روز بعد اس میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں۔
بچے کو بعد ازاں کراچی کے علاقے نیپا میں واقع سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں وہ ہفتے کے روز انتقال کر گیا۔
اس واقعے کے بعد محکمہ صحت کے حکام نے ابن حسن اسپتال کو سیل کر دیا ہے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
صوبائی محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں رواں سال منکی پاکس کے 98 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 12 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔
رواں ماہ کے دوران صوبے میں 19 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 12 کیسز صوبائی دارالحکومت کراچی سے سامنے آئے ہیں۔
صحت کے ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں، اہل خانہ اور ممکنہ طبی مراکز میں وائرس کی منتقلی کے راستوں کی نشاندہی کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے قبائلی علاقوں کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد رفیق نے پاک ٹوڈے کو بتایا کہ یہ وائرس زیادہ تر افریقی ممالک میں موجود ہے اور پاکستان میں ان لوگوں کے ذریعے شاید آیا ہے جنہوں نے متاثرہ ممالک کا سفر کیا ہے۔
ڈاکٹر رفیق کے مطابق منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ انسان یا جانور سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس عموماً متاثرہ شخص کی جلد پر موجود دانوں، چھالوں، جسمانی رطوبتوں، قریبی جسمانی رابطے اور آلودہ کپڑوں، تولیوں یا بستر کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
اس بیماری کی عام علامات میں بخار، سردی لگنا، سر درد، پٹھوں میں درد، اور جلد پر خارش والے دانے شامل ہیں۔
ڈاکٹر رفیق نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ مشتبہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں اور متاثرہ افراد سے قریبی رابطے سے گریز کریں۔
ماہرین کے مطابق بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی، بروقت تشخیص، متاثرہ افراد کو الگ رکھنے اور اسپتالوں میں صفائی و جراثیم سے پاک طبی آلات کے استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
افریقی ممالک میں بھی منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق افریقہ کے 11 ممالک میں 6 جولائی سے 16 اگست کے دوران منکی پاکس کے 1,153 مصدقہ کیسز سامنے آئے، جبکہ سات مریض انتقال کر گئے۔ ان ممالک میں مڈغاسکر، انگولا، کینیا، جمہوری جمہوریہ کانگو اور کیمرون میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق جولائی 2026 میں دنیا بھر کے 32 ممالک میں منکی پاکس کے 1,370 مصدقہ کیسز اور سات اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے تقریباً تین چوتھائی کیسز افریقی خطے میں سامنے آئے۔ ان میں چین سے بھی 88 کیسز سامنے آئے تھے۔
یکم جنوری 2022 سے 31 جولائی 2026 تک دنیا کے 145 ممالک اور خطوں میں منکی پاکس کے مجموعی طور پر 1,90,683 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس بیماری سے 529 افراد جاں بحق ہوئے۔
منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے ویکسین بھی دستیاب ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق افریقی ممالک میں ویکسینیشن مہمات جاری ہیں، تاہم ویکسین کی دستیابی اور فراہمی مختلف ممالک میں مختلف ہے۔
