واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکہ نے شام کو باضابطہ طور پر "دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں” کی بلیک لسٹ سے نکال دیا ہے، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین 47 برس سے عائد سنگین اقتصادی و سیاسی پابندیوں کے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ اور مالیات کی جانب سے 24 اگست 2026 کو اس فیصلے کا حتمی اجرا کیا گیا۔ یہ تحرک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 جولائی کو بھیجے گئے نوٹس اور امریکی کانگریس کے 45 روزہ جائزہ کی آئینی مدت بلامخالفت مکمل ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا۔ شام کو دسمبر 1979 میں اس فہرست میں درج کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے دفاعی سامان کی برآمدات، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی بینکنگ کے شعبوں میں طویل عرصے سخت ترین امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد شام کے نئے انتظامی سیٹ اپ کو بین الاقوامی برادری میں دوبارہ مربوط کرنا، عالمی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل آخری بڑی قانون رکاوٹیں دور کرنا اور جنگ زدہ ملک میں تعمیرِ نو کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
