لندن (پاک ٹوڈے): بانی تحریکِ انصاف عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک مفصل بیان جاری کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے پاکستان میں عمران خان کی مسلسل تنہائی کی قید اور بنیادی حقوق کی پامالی پر فوری سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
جمائما خان نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ تین سال سے ان کے بچوں کے والد کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ دس ماہ سے خاندان اور بچوں کی ان سے بات چیت اور ملاقات مکمل بند ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ‘نیلسن منڈیلا رولز’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 دن سے زائد کی تنہائی قید تشدد کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ عمران خان یہ سلوک تین سال سے برداشت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات (طبی سہولیات، ذاتی معالج، خاندانی ملاقاتوں اور بیٹوں کے ساتھ فون کالز) کی مسلسل عدولی کی جا رہی ہے۔ جمائما خان نے برطانیہ کے ساتھ عمران خان کے 50 سالہ تعلقات، ان کی آکسفورڈ میں تعلیم اور فلاحی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے نئی برطانوی حکومت اور سابق وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی کے مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ برطانیہ اپنے دیرینہ انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت اس معاملے پر علانیہ اور واضح موقف اختیار کرے۔
