ٹینیسی (پاک ٹوڈے): امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی قیدی 50 سالہ کرسٹا پائیک کو مہلک انجکشن کے ذریعے سزا دینے کی 2 کوششیں ناکام ہوگئیں اور وہ زندہ بچ گئی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
کرسٹا پائیک کو 1990 کی دہائی میں قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ حکام نے ٹینیسی کی ریور بینڈ جیل میں ان کی سزا پر عمل درآمد کی کوشش کی، تاہم دونوں مرتبہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔
واقعے کے بعد کرسٹا پائیک کو طبی نگرانی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
امریکا میں مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق بحث پہلے بھی جاری رہی ہے، تاہم کرسٹا پائیک کے معاملے نے اس طریقہ کار کی پیچیدگیوں اور عملی مشکلات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔
