نیروبی (پاک ٹوڈے): کینیا میں ایک مذہبی گروہ کے سربراہ پال مکینزی کو 190 بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں مجموعی طور پر 200 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
مکینزی کینیا کے مشرقی علاقے میں ایک مذہبی گروہ کی قیادت کرتا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو کھانا چھوڑنے اور اپنے بچوں کو بھی بھوکا رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ دنیا کے خاتمے سے پہلے جنت میں داخل ہو سکیں۔
عدالت نے پال مکینزی کو بھوکا رکھ کر ہلاکتوں کے جرم میں 100 سال اور دانستہ قتل کے جرم میں مزید 100 سال قید کی سزا سنائی۔
اس مقدمے میں مکینزی کے 28 ساتھیوں کو بھی 10 سے 160 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مذہبی گروہ سے جڑے واقعات میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تقریباً 500 تک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
