ریاض حسین | مردان
پاکستان میں دس روپے کے کرنسی نوٹ کی جگہ سکے متعارف کرانے کی مجوزہ تجویز نے چھوٹے تاجروں، روایتی فنکاروں اور کم آمدنی والے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مردان کے ہار بنانے والے دکانداروں اور ڈھول بجانے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ان کے کاروبار، روزمرہ آمدنی اور شادی بیاہ سے جڑی روایات متاثر ہو سکتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) دس روپے سے پانچ ہزار روپے تک کے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے، تاہم دس روپے کے نوٹ کو ختم کرکے اس کی جگہ سکے لانے کی تجویز نے خاص طور پر توجہ حاصل کی ہے۔
اقتصادی ماہر ضیاء الدین نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرنسی نوٹوں کی جگہ سکے متعارف کرانے سے جعلی کرنسی کی روک تھام اور بدعنوانی کے بعض امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں سکے زیادہ عرصے تک زیر گردش رہتے ہیں، جس سے مرکزی بینک کو بار بار نئے نوٹ چھاپنے، خراب نوٹ تبدیل کرنے اور ان کی تقسیم پر آنے والے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، ان کے مطابق سکوں کی تیاری، ترسیل اور تقسیم پر بھی اخراجات آتے ہیں، جبکہ وزن اور حجم زیادہ ہونے کے باعث عام شہریوں اور چھوٹے کاروباری افراد کو انہیں سنبھالنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
دس روپے کا نوٹ اس وقت روزمرہ کے چھوٹے لین دین، خریداری اور بقایا رقم کی ادائیگی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جگہ سکے متعارف ہونے سے دکانداروں، ریڑھی بانوں، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور دیگر چھوٹے کاروباری طبقوں کو اپنے معمولات تبدیل کرنا پڑ سکتے ہیں۔
مردان میں پھولوں اور کرنسی نوٹوں کے ہار بنانے والے محمد ولی کا کہنا ہے کہ دس روپے کے نوٹ کی جگہ سکے آنے سے ان کے کاروبار اور شادی بیاہ کی ایک مقبول روایت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عام اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شادیوں میں تحائف لے جانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ مہنگے تحفوں کے بجائے 250 سے 300 روپے مالیت کے دس روپے والے نوٹوں کے ہار خرید کر شادیوں اور دیگر تقریبات میں تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے وہ اپنی سماجی روایات بھی برقرار رکھتے ہیں اور زیادہ خرچ سے بھی بچ جاتے ہیں۔
ایک دوسرے دکاندار اکبر خان نے کہا کہ دس روپے کے نوٹ کی جگہ سکے متعارف ہونے سے انہیں رقم جمع کرنے اور سنبھالنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی دکاندار کے پاس 200 سے 300 سکے جمع ہو جائیں تو انہیں رکھنے اور ساتھ لے جانے کے لیے الگ تھیلی یا مخصوص بیگ درکار ہوگا۔ ان کے مطابق پالیسی سازوں کو ایسے فیصلے کرتے وقت عام شہریوں اور چھوٹے تاجروں کی عملی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
دس روپے کے نوٹ کی ممکنہ تبدیلی سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ڈھول بجانے والے روایتی فنکار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
مردان کے ڈھول بجانے والے محمد رفیق نے بتایا کہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں لوگ خوشی کے اظہار اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں عموماً دس روپے کے نوٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث بہت سے خاندان زیادہ رقم دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے دس روپے کے نوٹ ان کے لیے ایک آسان ذریعہ ہیں۔ ان کی جگہ سکے آنے سے ایسے چھوٹے لین دین میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے 18 ستمبر کو وضاحت کی تھی کہ دس روپے کے نوٹ کو ختم کرنے یا کسی بھی کرنسی کی مالیت کو تبدیل کرنے کا تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ مرکزی بینک نے سوشل میڈیا پر دس روپے کے نوٹ تبدیل کرانے کی آخری تاریخ سے متعلق خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا تھا۔
ماہرین کے مطابق سکے زیادہ دیر تک زیر گردش رہنے کے باعث طویل مدت میں کرنسی کی تیاری اور تبدیلی کے اخراجات کم کر سکتے ہیں، تاہم کسی بھی تبدیلی سے پہلے ان کی تیاری، عوامی سہولت، کاروباری ضروریات اور مارکیٹ میں دستیابی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ دس روپے کے موجودہ نوٹ تاحال قابل استعمال ہیں اور اسٹیٹ بینک نے انہیں تبدیل کرانے کے لیے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی۔
