واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکہ میں پناہ کی درخواستیں جمع کروانے یا درخواست دینے کے عمل سے گزرنے والے تقریباً 2 لاکھ غیر ملکی شہریوں کے بزنس اور ٹورسٹ ویزے منسوخ کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ امریکی تاریخ میں یہ ویزوں کی منسوخی کی سب سے بڑی اجتماعی کارروائی ہو گی۔
امریکی محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق، یہ اقدام ان غیر ملکیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جنہوں نے 2016 سے 2026 کے دوران شارٹ ٹرم وزٹ (B1 اور B2) ویزے حاصل کیے اور امریکہ پہنچ کر پناہ کی درخواستیں جمع کروائیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایسے افراد نے سیاحتی ویزوں کا سہارا لے کر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
حکام کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ویزا منسوخ ہونے کا مطلب فوری طور پر ملک بدری نہیں ہوگا اور پناہ کی درخواستوں کے زیرِ التوا مقدمات چلتے رہیں گے، تاہم ان افراد کی ‘وزٹر’ کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ متوقع طور پر آنے والے دنوں میں اس فیصلے کو امریکی عدالتوں میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
