اسلام آباد (پاک ٹوڈے): شام کی ایک عدالت نے ملک کے معزول صدر بشار الاسد اور ان کے چھوٹے بھائی ماہر الاسد کو ان کی عدم موجودگی میں انسانیت کے خلاف اور جنگی جرائم کے الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے 14 سالہ شامی تنازع کے دوران تقریباً 5 لاکھ افراد کی ہلاکت اور مظالم کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر اور ان کے بھائی کو موت کی سزا سنائی۔ اسی کیس میں شام کی سابق حکومت کی سیکیورٹی شاخ کے سربراہ اور بشار الاسد کے ماموں زاد بھائی بریگیڈیئر جنرل عاتف نجیب کو بھی سزائے موت دی گئی ہے، جو عدالت میں قیدی کی حالت میں موجود تھے۔
واضح رہے کہ بشار الاسد دسمبر 2024 میں دمشق میں حکومت کے خاتمے اور مخالف فورسز کے کنٹرول کے بعد اپنے خاندان سمیت ماسکو فرار ہو گئے تھے، جبکہ بعد ازاں عاتف نجیب کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا تھا
