دبئی (پاک ٹو ڈے) : اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ خلیجی علاقے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً 400 تجارتی جہاز تاحال پھنسے ہوئے ہیں، جن پر 6,000 کے قریب ملاح موجود ہیں۔
عالمی بحری تنظیم کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی آمدورفت کا بحران ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے عالمی برادری، رکن ممالک اور عالمی شپنگ انڈسٹری پر زور دیا کہ سمندری حدود میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کے لیے سیاسی و سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔
اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کا مؤقف ہے کہ غیر متعلقہ اور غیر مجاز بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فریقین کے متضاد بیانات اور کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
آئی ایم او کے مطابق جہازوں کی یہ تعداد صرف آبنائے ہرمز کے تنگ راستے تک محدود نہیں بلکہ اس سے جڑے وسیع تر خلیجی علاقے میں پھیلی ہوئی ہے، جہاں تجارتی روانگی شدید سست روی کا شکار ہے۔