مسلم ممالک کا باہمی تعاون عالمی امت کے لیے مفید، پاکستان سے تنازع مقامی نوعیت کا ہے، ذبیح اللہ مجاہد

کابل (پاک ٹوڈے): افغان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ممکنہ ملٹری پیکٹ (دفاعی معاہدے) پر ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ پیش رفت امارتِ اسلامیہ کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ یہ تمام ممالک اپنی قومی ترجیحات اور مفادات کو مدِنظر رکھ کر معاہداں کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلامی ممالک کے درمیان ایسا کوئی بھی معاہدہ یا تعاون دراصل پوری اسلامی دنیا کے فائدے اور بہتری کا سبب ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کسی طور ہمارے لیے خطرہ نہیں ہے کیونکہ امارتِ اسلامیہ کی ان میں سے کسی بھی ملک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

پاکستان کے ساتھ سرحدی اور سیکورٹی تناؤ پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ حالیہ جارحیت کی شروعات پاکستان کی جانب سے ہوئی تھی، تاہم ہم اسے ایک علاقائی و مقامی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مذکورہ ممالک میں سے کوئی بھی امارتِ اسلامیہ کا دشمن نہیں ہے۔

Related posts

400 تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت معطل، آئی ایم او کا سیاسی حل پر زور

غربِ اردن: جنین میں اسرائیلی ڈرون حملہ، حماس کمانڈر قیس البیطاوی سمیت 3 افراد شہید

سعودی عرب: دال کی کھیپ میں ساڑھے 19 لاکھ سے زائد نشہ آور گولیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام