چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر دوڑ میں یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑ دیا

بیجنگ (پاک ٹوڈے): چین میں سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ میں انسانی تاریخ کے تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نیا وقت قائم کر دیا ہے۔

بیجنگ کے مشہور ’آئس ربن‘ اسٹیڈیم میں منعقدہ ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے مقابلے میں ’تیان ژو‘ (Tianzhou) ٹیم کے تیار کردہ روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ محض 9.39 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس کارنامے کے ساتھ ہی روبوٹ نے جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا 9.58 سیکنڈ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، جو انہوں نے 2009 کی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں قائم کیا تھا اور جسے آج تک کوئی انسان نہیں توڑ سکا۔

اس مقابلے میں چین کی مختلف اور نامور رو بوٹکس کمپنیوں نے حصہ لیا۔ مقابلے کے آغاز پر ہیومنائیڈ روبوٹس نے جدید سینسرز اور تیز ترین فٹ ورک کی مدد سے رفتار پکڑی اور حیران کن توازن برقرار رکھتے ہوئے فنش لائن عبور کی۔ ماہرین کے مطابق روبوٹک اسپرنٹنگ کی اس رفتار نے روبوٹکس ہارڈ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر معمولی پیش رفت کو ثابت کر دیا ہے۔

Related posts

چیٹ جی پی ٹی میں ورچوئل ٹرائی آن اور فیورٹس کے نئے فیچرز متعارف

16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی مؤثر نگرانی کی سفارش

گوگل نے نیا اے آئی ماڈل جیمنائی 4 آرگون متعارف کرا دیا