تیونس کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، لاپتا افراد کی تلاش جاری

تیونس (پاک ٹوڈے): بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ایک اور افسوسناک حادثہ سامنے آیا ہے، جہاں تیونس کے زرزيس ساحل سے تقریباً 14 ناٹیکل میل دور 15 تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی۔

تیونس کے نیشنل گارڈ کے ترجمان حسام الدین جبابلی کے مطابق حادثہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب پیش آیا، جس کے بعد ریسکیو حکام نے تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اب تک ایک شخص کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے مقامی ادارے نے چار لاشیں ملنے کی اطلاع دی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق وسطی بحیرہ روم کا یہ راستہ نقل مکانی کے لیے دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہی 900 سے زائد تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔

Related posts

شام کا یمن میں فوج بھیجنے پر غور، 20 ہزار تک اہلکار تعیناتی زیرِ غور

مادورو اور اہلیہ کے خلاف امریکی شہریوں پر مبینہ تشدد کے نئے مقدمات کا امکان

ایران جنگ: امریکا کے 81 فوجی طیارے اور ڈرونز متاثر، نقصانات کا تخمینہ 3.3 ارب ڈالر