کابل (پاک ٹوڈے): افغان عبوری حکومت کی وزارتِ عدلیہ نے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری کے بعد نیا ‘قانونِ شرطہ’ (پولیس قانون) رسمي جریدے (نمبر 1496) میں شائع کر کے نافذ کر دیا ہے۔ 53 دفعات اور ان کی تفصیلی شرح پر مبنی اس نئے قانون کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ کے سپرد کی گئی ہے۔
قانونِ شرطہ میں پولیس کے فرائض، ملزمان کی شناخت، بچوں کی تادیب، منشیات کی روک تھام اور اغوا جیسے جرائم سے متعلق احکامات شامل ہیں، قانون کی دفعہ 50 کے تحت افغانستان کی حدود میں ہر قسم کے مظاہروں اور احتجاج پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے ساتھ حنفی فقہ کی کتاب ‘الدر المختار’ کا حوالہ دیتے ہوئے امیر (سلطان) کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب دفعہ 14 میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے شرعی حکم کے بغیر کسی بھی متہم یا قیدی کو لاٹھی، کوڑے یا کیبل سے مارنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی دفعہ کی شق کے مطابق سزاؤں پر عملدرآمد کے وقت تصاویر بنانے اور ویڈیو ریکارڈنگ پر بھی مکمل قدغن لگا دی گئی ہے۔