مشرق وسطیٰ کشیدگی کے درمیان ایشیا اور یورپ کے لیے نیا سمندری راستہ فعال۔

​اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی بحری گزرگاہوں کی نامساعد صورتِ حال کے بعد ایشیا اور یورپ کے درمیان نئے تجارتی راستوں کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اپنا پہلا کنٹینر بردار جہاز آزمائشی بنیادوں پر برفیلے آرکٹک (قطب شمالی) کے راستے یورپ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔

​بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق "پین اسٹار ایکرو” نامی یہ جہاز جنوبی کوریا کی اہم بندرگاہ بوسان سے روانہ ہوا ہے، جو قطب شمالی کی بحری گزرگاہ سے ہوتا ہوا برطانیہ، نیدرلینڈز اور پولینڈ پہنچے گا۔ اندازہ ہے کہ یہ پورا آزمائشی مشن تقریباً 45 دنوں میں مکمل ہو جائے گا، جس کا بنیادی مقصد اس نئے روٹ کی تجارتی افادیت کو جانچنا ہے۔

​معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا سے یورپ جانے کے لیے عموماً سوئز کینال کا روایتی راستہ استعمال کیا جاتا ہے، مگر آرکٹک کی اس گزرگاہ سے نہ صرف فاصلہ 7 ہزار کلومیٹر تک کم ہو جائے گا بلکہ سفر کے دورانیے میں بھی کم از کم 10 دن کی بچت ہوگی۔ اس سے قبل چین بھی اسی راستے سے اپنا تجارتی جہاز یورپ بھیج چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیائی معاشی طاقتیں مستقبل کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے آرکٹک کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

​جنوبی کوریا کے نائب وزیرِ بحری امور نام جے ہون کے مطابق موجودہ جیو پولیٹیکل حالات اور جدید بحری ٹیکنالوجی آرکٹک روٹ کو مشرق وسطیٰ کے پرخطر راستوں کا بہترین متبادل بناتی ہیں۔ تاہم ماہرین نے اس نئے روٹ سے جڑے دو اہم خدشات بھی ظاہر کیے ہیں؛ ایک طرف روسی نیوی گیشن پر انحصار کے باعث مغربی پابندیوں سے متعلق قانونی سوالات جنم لے سکتے ہیں، تو دوسری طرف قطب شمالی میں بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیاں اور پگھلتی برف خطے کے حساس ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

Related posts

تہران میں امریکا اور اسرائیل سے مبینہ تعلق کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت

روسی صدر پوتین کی یوکرینی بنیادی ڈھانچے پر شدید جوابی بمباری کی دھمکی

عبوری افغان حکومت کا 53 دفعات پر مشتمل نیا ‘قانونِ شرطہ’ نافذ، ملک بھر میں مظاہروں پر مکمل پابندی عائد