اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں اور نوعمروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال اور نئے اکاؤنٹس بنانے پر مکمل پابندی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار وقاص ناصر نے اپنے وکلاء کے توسط سے استدعا کی ہے کہ بچوں کو آن لائن ہراسانی، جنسی استحصال اور نا مناسب مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے۔
پٹیشن میں آسٹریلیا میں پاس کیے گئے حالیہ قوانین کی مثال دیتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہے، جو آہستہ آہستہ اس کی لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ چونکہ کم عمر بچے سائبر ہراسانی یا استحصال کی صورت میں خود ایف آئی اے یا قانونی اداروں سے رجوع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے ریاست کو بحیثیت سرپرست اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
درخواست میں وفاقی حکومت، پی ٹی اے اور نادرا کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر عمر کی تصدیق کا ایک مربوط نظام وضع کریں تاکہ 16 سال سے کم عمر افراد کے اکاؤنٹس نہ بن سکیں۔ علاوہ ازیں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر والدین اور متعلقہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی قانوناً ذمہ داری عائد کرنے اور جرمانے لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔