بنوں (پاک ٹوڈے): بنوں میں مبینہ طور پر جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف متوفی قاری رشید کے لواحقین نے مقتول کی میت کے ہمراہ بنو پریس کلب کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
لواحقین کے مطالبات اور ذرائع کے مطابق قاری رشید کو 27 جولائی 2026 کو بنو سٹی کورٹ سے بنو پولیس اور مقامی آمن کمیٹی نے حراست میں لیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ آمن کمیٹی کے سربراہ نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر ماورائے عدالت قتل نہ کرنے کی ضمانت دی تھی، جبکہ خاندان نے بھی پریس کانفرنس کے دوران مقتول کے کسی پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث نہ ہونے کا حلف پیش کیا تھا۔ لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ آمن کمیٹی نے مخالفین سے بھاری رقم لے کر قاری رشید کو بغیر کسی ایف آئی آر کے اغوا کیا اور بعد میں عسکریت پسند قرار دے کر قتل کر دیا۔
اہلِ خانہ نے کمیٹی کو چیلنج دیا ہے کہ وہ قاری رشید کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے میں ملوث ہونے کا ثبوت پیش کرے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ تدفین کے بعد ایک اور پریس کانفرنس کے ذریعے بنوں پولیس اور آمن کمیٹی کے خلاف تمام شواہد عام کیے جائیں گے۔