پشاور (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی آئینی و سیاسی صورتحال اور سیکیورٹی کی سنگین ہوتی حالت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی فردِ واحد کی منشا یا سہولت کی خاطر کی جانے والی آئین سے متصادم قانون سازی کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
پشاور میں منعقدہ صوبائی جے یو آئی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اختیارات اور خودمختاری کو ایک عہدے کے سپرد کرنے سے ملک میں سیاسی گھٹن اور عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ ملکی منصب اور ذمہ داریوں کے معاملے میں نبوی طرزِ عمل سے رہنمائی لی جائے اور اداروں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے حالیہ ترمیم اور قانون سازی پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن کی حکمت عملی اور حکومتی روش دونوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر جلد بازی میں پاس کروائے گئے قوانین آئین کی وفاقی روح کے منافی ہیں، کیونکہ جن امور کو اسلامی نظریاتی کونسل یا پارلیمنٹ کی کثرتِ رائے سے طے ہونا چاہیے تھا، انہیں بالائے طاق رکھ کر فیصلے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ملک کے مضبوط دفاع اور عسکری اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن سیاست اور آئین سازی میں مداخلت کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں میں حکومتی رٹ عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ بنوں اور لکی مروت جیسے حساس اضلاع میں پولیس انتظامیہ کا چین آف کمانڈ مفلوج ہو چکا ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر عدم تحفظ کی فضا قائم ہے۔ انہوں نے صوبائی تقسیم اور معدنی وسائل پر قبائل کے مالکانہ حقوق کی نفی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان کے بنيادی اور آئینی حقوق سے محروم رکھ کر ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اندرونِ ملک حالات کشیدہ ہیں اور سر زمین خون سے سرخ ہو رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقات بیرونِ ملک نمائشی دوروں اور ریڈ کارپٹ تک محدود ہیں، جو کہ ملکی سنجیدگی کے برعکس ہے۔