سان فرانسسکو (پاک ٹوڈے): مصنوعی ذہانت کے عالمی ادارے اوپن اے آئی نے قانون سازوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور تحفظ کے خدشات کے پیشِ نظر 13 سے 17 سال کے نوعمر افراد کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا ایک نیا، محفوظ اور مخصوص ورژن "ChatGPT for Teens” متعارف کرا دیا ہے۔ یہ اہم قدم اوپن اے آئی پر دائر متعدد قانونی مقدمات اور اس تنقید کے بعد سامنے آیا ہے جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ اے آئی چیٹ بوٹ کے غیر محفوظ استعمال کے باعث کچھ کم عمر صارفین خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے پر مائل ہوئے۔ نئی ترتیبات کے تحت 13 سے 17 سال کی عمر ظاہر کرنے والے تمام صارفین کے لیے یہ حفاظتی موڈ خودکار طور پر فعال ہو جائے گا۔
اس نئے ورژن میں کئی اہم سیفٹی فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں جن کے تحت اب یہ چیٹ بوٹ نوعمر افراد کو سوالات کے براہِ راست جوابات دینے کے بجائے رہنمائی فراہم کرنے والے سوالات پوچھے گا تاکہ ان کی تعلیمی سمجھ بوجھ بہتر ہو سکے۔ مزید برآں، چیٹ بوٹ کو یہ تاثر دینے سے روک دیا گیا ہے کہ وہ صارف کے لیے ذاتی جذبات یا اپنا شعور رکھتا ہے، جبکہ وائس موڈ جیسی سہولیات بھی غیر فعال کر دی گئی ہیں۔ والدین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس بچوں کے اکاؤنٹس سے منسلک کریں، جس سے خودکشی، تشدد یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق گفتگو کی صورت میں والدین کو فوراً الرٹ موصول ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ ماڈل صارفین کو استعمال کے دوران وقفہ لینے اور رات کے وقت ‘خاموش اوقات’ کی یاد دہانی بھی کرائے گا۔ امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کی تحقیقات اور عالمی سطح پر اے آئی کمپنیوں پر بڑھتی ہوئی قدغنوں کے درمیان یہ اقدام تکنیکی دنیا میں بچوں کی حفاظت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔