عمران خان: میدانِ کرکٹ کا کپتان، قوم کا لیڈر اور ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت
محمد سعد خان
پاکستان کی سیاسی تاریخ اپنے اندر بے شمار ڈرامائی موڑ، ناکام تجربات اور مقبول رہنماؤں کے المناک زوال کی داستانیں سموئے ہوئے ہے۔ تاہم، عمران خان کا سیاسی سفر ملکی تاریخ کے تمام سابقہ بابوں سے اس لحاظ سے منفرد اور پیچیدہ ہے کہ اس میں ایک بین الاقوامی اسپورٹس آئیکن کا ابھار، رفاہی میدان میں بے مثال کامیابیاں، اور بالآخر سیاست کی باریک اور پرپیچ راہوں میں ایک طویل جدوجہد شامل ہے۔
وہ صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسیات میں اس گہرے تضاد اور کشمکش کی علامت بن کر سامنے آئے ہیں جو عوام میں مقبولیت اور ملکی مفاد پرستی یا ریاستی ڈھانچے کے درمیان ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ان کا یہ سفر جہاں قومی امیدوں، عوامی بیداری اور آئینی نعروں سے سجا ہوا ہے، وہی اس کے آخری حصے میں ریاستی بے لچک رویوں، عدالتی معرکوں اور سنگین سیاسی انتقام کی داستانیں بھی درج ہیں۔
عمران خان کی شخصیت کی تعمیر اس مقبولیت سے ہوئی جو انہوں نے میدانِ کرکٹ سے حاصل کی۔ 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ محض ایک کھیل کی فتح نہیں تھی، بلکہ سیاسی و اقتصادی بحرانوں میں گھری ایک قوم کے لیے ایک عظیم نفسیاتی موڑ تھا۔ عمران خان کی قیادت میں حاصل ہونے والے اس عالمی کپ نے ان کے اندر ایک ایسے رہنما کی شخصیت کو جنم دیا جو انتہائی مایوس کن حالات میں بھی فتح کا یقین رکھتا تھا۔
کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد، انہوں نے ملک کے سماجی شعبے میں ایک ایسا کارنامہ کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا قیام ایک ایسا منصوبہ تھا جسے اس وقت کے ماہرین نے تکنیکی و مالی لحاظ سے ناپائیدار اور ناممکن قرار دیا تھا۔ لیکن عمران خان نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر عوامی عطیات کی مہم چلا کر ایک جدید ترین طبی ادارہ قائم کیا، جہاں آج بھی غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولت میسر ہے۔ بعد ازاں، میانوالی میں نمل یونیورسٹی اور القادر یونیورسٹی کا قیام اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ایک طویل المدتی وژن رکھتے ہیں جو صرف سیاست تک محدود نہیں تھا۔
25 اپریل 1996 کو پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی بنیاد رکھ کر عمران خان نے باضابطہ طور پر ملکی سیاست میں قدم رکھا۔ اس وقت کا پاکستان دو جماعتی نظام (پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی) کے محاصرے میں تھا، جہاں اقتدار باری باری ان دو خاندانوں کے گرد گھومتا تھا۔
عمران خان کے سیاسی سفر کا پہلا ڈیڑھ دہائی انتہائی کٹھن اور آزمائشوں سے پر تھا۔ انہیں ایک "سیاسی نووارد” اور ان کی پارٹی کو "ایک بندے کی تحریف” کہہ کر مسترد کیا گیا۔ 2002 کے انتخابات میں وہ اپنی پارٹی سے واحد رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے، لیکن انہوں نے اس سیاسی تنہائی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔
30 اکتوبر 2011 کو لاہور کے مینارِ پاکستان پر ہونے والے عظیم الشان جلسے نے پاکستان کی سیاسی حرکیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان نے پاکستان کے نچلے اور درمیانے طبقے، خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کو، جو روایتی سیاست سے بدظن ہو چکے تھے، ایک نیا سیاسی شعور اور امید دی اور وہ ملک کی سب سے بڑی متبادل سیاسی قوت بن کر ابھرے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، اور عمران خان کا اقتدار تک پہنچنے کا سفر بھی اس سے مبرا نہیں رہا۔
2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف عمران خان نے اسلام آباد میں 126 دن کا تاریخی دھرنا دیا، جس نے نہ صرف حکومت کو مفلوج کیا بلکہ عوامی بیداری کو عروج پر پہنچا دیا۔ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور عمران خان نے پاکستان کے 22ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
حکومت کے ابتدائی تین سالوں میں عمران خان اور عسکری قیادت نے "ایک پیج” پر ہونے کا بارہا اعلان کیا۔ اس دور میں معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی امور پر ہم آہنگی دیکھی گئی۔ تاہم، یہ اتحاد پائیدار ثابت نہ ہو سکا:
خارجہ پالیسی کا اختلاف: عمران خان نے ایک آزاد اور خوددار خارجہ پالیسی اپنائی، جس میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مساوی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش اور روس و چین کے ساتھ روابط میں گرمجوشی شامل تھی۔ غیر ملکی فوجی اڈے دینے سے واضح انکار ("Absolutely Not”) نے عالمی طاقتوں اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کے تحفظات کو جنم دیا۔
داخلی انتظامی امور: اعلیٰ عسکری عہدیداروں کی تعیناتیوں خصوصاً آئی ایس آئی (ISI) کے سربراہ کی تبدیلی کے معاملے پر وزیراعظم اور عسکری قیادت کے درمیان گہرے اختلافات پیدا ہوئے، جس سے "ایک پیج” کا تاثر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔اپریل 2022 میں مخالف سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد (PDM) نے عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی۔ یہ تحریک محض سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اسے اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔
حکومت کے خاتمے کے بعد، عمران خان نے خاموشی سے گھر بیٹھنے کے بجائے ایک جارحانہ بیانیہ اختیار کیا۔ انہوں نے اپنی برطرفی کو ایک "بین الاقوامی سازش” اور "رجیم چینج” قرار دیا۔ اس بیانیے نے عوام میں ایک زلزلہ برپا کر دیا۔ پشاور، لاہور، اور کراچی میں لاکھوں کے تاریخی جلسوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اقتدار سے بے دخلی کے باوجود عمران خان عوام کے سب سے مقبول رہنما تھے۔ ان کا نعرہ "حقیقی آزادی” ملکی خودمختاری کی علامت بن گیا۔
عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنے کے لیے ریاستی مشینری نے وہ تمام راستے اختیار کیے جو کسی بھی جمہوری نظام پر ایک سیاہ دھبہ سمجھے جاتے ہیں۔ ا
وزیر آباد میں حقیقی آزادی مارچ کے دوران عمران خان پر جان لیوا حملہ کیا گیا جس میں وہ متعدد گولیوں سے زخمی ہوئے۔ اس حملے کی شفاف تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس سے ان خدشات کو تقویت ملی کہ اس کے پیچھے بااثر طاقتیں کارفرما تھیں۔
9 مئی 2023 کو عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے رینجرز کے ذریعے گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کو بنیاد بنا کر پارٹی کے خلاف ایک منظم ریاستی آپریشن شروع کیا گیا۔ ہزاروں کارکنوں اور سینیئر رہنماؤں کو بغیر کسی شفاف ٹرائل کے قید کیا گیا، اور زبر دستی پریس کانفرنسز کے ذریعے پارٹی چھڑوانے کے واقعات سامنے آئے، جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
عمران خان پر 200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن کی نوعیت اور سماعت کی رفتار نے عدالتی نظام کے غیر جانبدار ہونے پر سنگین سوالات اٹھائے:
توشہ خانہ کیس: سرکاری تحائف کے معاملے میں تیز ترین سماعتوں کے ذریعے سزائیں سنائی گئیں، جبکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے ایسے ہی مقدمات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
سائفر کیس: آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم کیے گئے اس کیس کی سماعت کو خفیہ رکھا گیا اور فوری سزا سنائی گئی، جسے قانونی ماہرین نے آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا۔
شادی اور ذاتی زندگی پر حملے (عدت کیس): عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ایک انتہائی ذاتی معاملے میں گھسیٹ کر سزا سنائی گئی، جسے سول سوسائٹی اور عالمی برادری نے تحقیر اور سیاسی انتقام کی نچلی ترین سطح قرار دیا۔
اگست 2023 سے عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ رپورٹس شائع کیں کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، طبی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر کی گئی، اور ان کے وکلاء و اہل خانہ سے ملاقاتوں پر باقاعدہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
تمام تر ریاستی جبر، پارٹی کا انتخابی نشان (بلا) چھینے جانے، اور رہنماؤں کے قید ہونے کے باوجود، 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں پاکستانی عوام نے ایک غیر معمولی سیاسی تاریخ رقم کی۔
عوام نے کسی بڑی انتخابی مہم کے بغیر، عمران خان کی ہدایت پر ان کے آزاد امیدواروں کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر کامیاب بنایا۔ اس الیکشن نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی کہ جبر اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے عوامی حمایت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ووٹ عمران خان کے بیانیے پر عوام کی جانب سے ایک انوکھا اور تاریخی ریفرنڈم تھا۔
عمران خان کی سیاسی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور نمایاں رخ ملکی خودمختاری، انسانی حقوق اور بے گناہ شہریوں کے تحفّظ کے لیے ان کا غیر متزلزل موقف رہا ہے۔ جب ملک کی روایتی سیاسی قیادت بین الاقوامی دباؤ کے باعث ان حساس ترین موضوعات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی، تب عمران خان واحد قومی رہنما کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے ان مسائل کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پوری جرات سے اٹھایا۔
نائن الیون کے بعد جب سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں امریکی ڈرون حملے عروج پر تھے اور آئے دن بے گناہ شہری، خواتین اور بچے ان کا نشانہ بن رہے تھے، تو عمران خان نے کھلم کھلا ان حملوں کو پاکستان کی سلامتی، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین ورزی قرار دیا۔ انہوں نے ناصرف ان حملوں کی لفظی مذمت کی بلکہ ڈرون حملوں کو رکوانے کے لیے پشاور سے وزیرستان تک ایک تاریخی لانگ مارچ کی قیادت کی، جس میں بین الاقوامی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور غیر ملکی ڈرون مخالف تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے خیبر پختونخوا کی حد تک نیٹو سپلائی لائن کو بلاک کر کے عالمی طاقتوں پر یہ واضح کیا کہ پاکستان کے عام شہریوں کا خون ارزاں نہیں ہے اور نہ ہی ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید، انہیں سنائی جانے والی سخت سزا اور ان کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف بھی عمران خان نے ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کی۔ انہوں نے ہر سیاسی اور عوامی فورم پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو "قوم کی بیٹی” قرار دیا اور ان کی باوقار وطن واپسی کو اپنی سیاست کا بنیادی اخلاقی نقطہ بنایا۔ انہوں نے امریکی پالیسیوں اور ملکی حکمرانوں کی بے حسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بین الاقوامی برادری کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ کسی بھی پاکستانی شہری کے انسانی و قانونی حقوق کی پامالی ناقابلِ برداشت ہے۔ عمران خان کے اس بیانیے نے ناصرف متاثرہ قبائلی علاقوں کے عوام کی زدوکوب ہوتی امیدوں کو سہارا دیا بلکہ پوری قوم میں اپنے شہریوں کے دفاع اور قومی خودمختاری کا ایک نیا اور بیدار احساس بھی پیدا کیا۔
گزشتہ روز طویل قیدِ تنہائی اور کٹھن حالات کے باعث جیل میں عمران خان کی طبعیت ناساز ہونے پر سپریم کورٹ نے ان کی طبی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کا یہ فیصلہ جہاں انسانی ہمدردی اور آئینی حقوق کی بنیادپر ہے، وہاں اس نے ملکی سیاست کے ایوانوں میں ایک بار پھر تحرک پیدا کر دیا ہے۔ عمران خان کے ہسپتال منتقل ہونے اور جیل سے باہر آنے کے امکانی منظرنامے ہی سے سیاسی مخالفین میں ایک بار پھر تشویش اور بے چینی لرزہ برپا کر چکی ہے۔
حکومتی اتحاد اور طاقتور حلقے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ عمران خان کی اصل طاقت صرف ان کی جسمانی موجودگی میں نہیں، بلکہ ان کے بیانیے اور عوام کے غیر متزلزل اعتماد میں پنہاں ہے۔ ان کے ہسپتال منتقل ہونے یا جیل سے باہر قدم رکھنے کا تصور ہی مخالفین کو یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ تمام تر ریاستی جبر کے باوجود ان کی عوامی مقبولیت کو کم نہیں کیا جا سکا۔ یہ خوف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فوجی جرنیل بالخصوص جنرل عاصم منیر اور سیاسی حریف تمام تر اقتدار کے باوجود عمران خان کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے سے آج بھی گھبراتے ہیں۔
عمران خان کی کہانی ایک ایسے سیاست دان کی ہے جس نے روایتی مفاہمت، سیاسی لوٹا کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی شرائط کو ماننے کے بجائے مقابلے کا راستہ منتخب کیا۔ وہ اپنے فیصلوں اور سخت بیانات کے باعث متنازع بھی رہے اور ان پر پالیسیوں کے حوالے سے تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ آج کی تاریخ میں پاکستان کی سب سے معتبر اور مقبول عوامی شخصیت ہیں۔
ایک ہیرو، ایک وزیراعظم اور بالآخر ایک سیاسی قیدی کے طور پر ان کا کردار ملک کی بقا، قانون کی بالادستی اور عدالتی نظام کی آزادی کے لیے ایک معیار بن چکا ہے۔ ان کے خلاف کی جانے والی ناانصافیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، اور یہ وقت ہی طے کرے گا کہ پاکستان کا سیاسی نظام ان کے اٹھائے گئے سوالات کا کیا جواب دیتا ہے۔