رپورٹ: ریاض حسین
پشاور: انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر، وکیل ہادی علی چٹھہ، کی دوبارہ گرفتاری نے پاکستان میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد، ایک ہی افراد کے خلاف متعدد مقدمات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دونوں کو اس وقت دوبارہ گرفتار کیا گیا جب سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں انہیں سنائی گئی 17، 17 سال قید کی سزائیں معطل کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔
معاملہ کہاں سے شروع ہوا؟
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے سزائیں معطل کیے جانے اور رہائی کا حکم جاری ہونے کے بعد دونوں کی اڈیالہ جیل سے رہائی متوقع تھی، تاہم جیل سے باہر آتے ہی اسلام آباد پولیس نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا۔ پولیس نے دونوں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
نئے مقدمے میں کیا الزام ہے؟
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نیا مقدمہ 22 مارچ 2025 کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق دونوں پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بلاک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یوں سپریم کورٹ کی جانب سے ایک مقدمے میں سزائیں معطل کرکے رہائی کا حکم دیے جانے کے بعد دونوں کی ایک دوسرے مقدمے میں گرفتاری عمل میں آئی۔
دوبارہ گرفتاری پر کیا ردعمل سامنے آیا؟
دوبارہ گرفتاری پر وکلا، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے اس پیش رفت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ملک میں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اور قانون دان طارق افغان نے بھی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور پورا نظام مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق، آئین، قانون اور امن کی بات کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طارق افغان نے سوال اٹھایا کہ کیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری کے معاملے میں متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا؟ ان کے مطابق یہ اقدام آئینی اور قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔ صحافی مطیع اللہ جان نے بھی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نئے مقدمے کو سوشل میڈیا کیس کے ساتھ پہلے کیوں نہیں دیکھا گیا۔ مطیع اللہ جان نے الزام عائد کیا کہ نئے مقدمے میں دونوں کی دوبارہ گرفتاری حکومت کی جانب سے بدنیتی پر مبنی اقدام ہے اور اس سے نظام انصاف کے طریقہ کار پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کے کارکن مشتاق احمد خان نے بھی دونوں کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرکے ایک ایسے مقدمے میں جیل بھیجا گیا جسے انہوں نے ’’جعلی‘‘ دہشت گردی کا مقدمہ قرار دیا۔ مشتاق احمد خان نے اس اقدام کو سپریم کورٹ کے احکامات، قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے پاکستان میں اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے طرز عمل کو ’’فسطائیت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
بنیادی سوالات کیا ہیں؟
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری کے بعد چند اہم قانونی اور انتظامی سوالات سامنے آئے ہیں۔ کیا ایک مقدمے میں سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد کسی دوسرے مقدمے میں فوری گرفتاری کے لیے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے تھے؟ دوسرے مقدمے کی موجودگی کے باوجود اس پر پہلے کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور پولیس کی جانب سے نئی گرفتاری کے درمیان قانونی طریقہ کار کیا تھا؟ اور کیا ایک ہی افراد کے خلاف مختلف مقدمات میں کارروائی کا طریقہ کار قانون کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہے؟ ان سوالات پر مختلف قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان معاملات کا حتمی تعین متعلقہ عدالتوں کی کارروائی اور قانونی فیصلوں سے ہوگا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کا معاملہ اس وقت صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد، قانونی طریقہ کار، متعدد مقدمات اور اختلاف رائے رکھنے والے افراد کے ساتھ ریاستی اداروں کے برتاؤ سے متعلق وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے۔