ریاض حسین | خصوصی رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی رسد اور سمندری تجارت کے دو اہم راستوں، آبنائے ہرمز اور باب المندب، کے مستقبل پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ممکنہ طویل رکاوٹ کی صورت میں پاکستان سمیت درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو تیل، ایل این جی، شپنگ اور مجموعی درآمدی لاگت میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں راستوں میں بیک وقت خلل عالمی توانائی کی قیمتوں، بحری نقل و حمل، انشورنس اور سپلائی چینز پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، تاہم کچھ متبادل راستے اور سپلائی ذرائع دستیاب رہیں گے۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں اس راستے سے اوسطاً 20.9 ملین بیرل یومیہ تیل گزرا، جو عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی تھا۔ ہرمز سے بڑی مقدار میں ایل این جی بھی گزرتی ہے۔ EIA کے مطابق اسی عرصے میں اس راستے سے تقریباً 11.4 ارب مکعب فٹ یومیہ ایل این جی کی ترسیل ہوئی۔ بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع باب المندب بھی عالمی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ یہ یمن کو افریقہ کے جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتا ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔ EIA کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں باب المندب سے تقریباً 4.2 ملین بیرل یومیہ تیل گزرا۔ یہ راستہ نہر سویز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری تجارت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر سکیورٹی خطرات کے باعث جہازوں کو باب المندب سے گریز کرتے ہوئے افریقہ کے جنوبی سرے، کیپ آف گڈ ہوپ، کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑے تو سفر کا وقت، ایندھن، فریٹ اور انشورنس اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
دونوں راستوں میں خلل کے ممکنہ اثرات
ہرمز اور باب المندب عالمی توانائی اور تجارت کے مختلف مگر باہم منسلک راستے ہیں۔ ہرمز خلیج فارس سے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ہے، جبکہ باب المندب ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بحری تجارت کا بنیادی راستہ ہے۔ اگر دونوں راستوں میں بیک وقت طویل خلل پیدا ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل اور ایل این جی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ، ترسیل میں تاخیر اور سپلائی چین میں رکاوٹ کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا۔ تاہم ہرمز میں رکاوٹ کا مطلب عالمی سطح پر تیل کی فوری قلت نہیں ہوگا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے متبادل پائپ لائنیں اور برآمدی راستے موجود ہیں، اگرچہ ان کی گنجائش سمندری راستے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔
پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی تیل کی قیمتوں اور خلیجی سپلائی میں تبدیلیاں ملک کے درآمدی بل پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔ پاکستانی ماہرِ اقتصادیات فدا حسین نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل عدم استحکام عالمی اقتصادی ترقی اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ حسین کے مطابق ایشیا اور یورپ کے ممالک کے تزویراتی توانائی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ توانائی کی مسلسل مہنگائی اقتصادی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک اپنے تیل کے ذخائر کا تقریباً 30 فیصد استعمال کر چکا ہے اور چینی اقتصادی نمو میں نمایاں کمی کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ حسین نے باب المندب کو ایشیا اور یورپ کے درمیان تیل اور دیگر اشیا کی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں طویل رکاوٹ یورپی معیشتوں اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
حوثیوں سے متعلق تجزیہ
خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حسین نے کہا کہ ان کے خیال میں حوثیوں کی کارروائیاں صرف ایران کی حمایت تک محدود نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال سعودی عرب پر ابراہیم معاہدوں میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالنے کی وسیع تر کوششوں سے منسلک ہو سکتی ہے۔
پٹرول سے مہنگائی تک
سینئر صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے کئی سطحوں پر اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ "زیادہ مہنگا تیل درآمدی بل میں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، مال برداری اور زرعی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ توانائی کی زیادہ لاگت صنعتی پیداوار اور بجلی کے شعبے پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بعض اضافی اخراجات صارفین تک منتقل ہونے کا امکان ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ زرمبادلہ پر بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کو توانائی کی درآمدات کے لیے زیادہ ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔” یوں ممکنہ معاشی اثرات کا سلسلہ زیادہ مہنگا تیل، زیادہ درآمدی بل، ڈالر کی طلب میں اضافہ، روپے پر دباؤ اور مہنگائی کے خطرے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے خطرہ صرف خام تیل تک محدود نہیں۔ ہرمز میں طویل رکاوٹ ایل این جی کی عالمی سپلائی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے درآمدی توانائی کی لاگت اور بجلی کی پیداوار پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی مدت اور شدت اس بات کا تعین کرے گی کہ عالمی توانائی اور تجارت پر اس کے اثرات کس حد تک پھیلتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اثرات کا حجم عالمی قیمتوں، سپلائی میں ممکنہ خلل، متبادل ذرائع کی دستیابی اور ملک کی زرمبادلہ کی پوزیشن پر منحصر ہوگا
حوثی کون ہیں؟
"حوثی” کا نام دراصل الحوثی خاندان سے لیا گیا ہے۔ اس تحریک کے بانی رہنما حسین بدر الدین الحوثی تھے، جبکہ آج اس کی قیادت ان کے بھائی عبدالملک الحوثی کے ہاتھ میں ہے۔ تاہم یہ گروہ خود کو "انصاراللہ” یعنی "اللہ کے مددگار” کہلانا پسند کرتا ہے — اور یہ نام محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ اس کی سیاسی اور مذہبی شناخت کا آئینہ دار ہے۔ مذہبی طور پر یہ تحریک زیدی شیعہ اسلام سے تعلق رکھتی ہے، جو شیعہ اسلام کی ایک الگ شاخ ہے۔ اگرچہ زیدی عقیدہ ایران کے اثنا عشری شیعہ مذہب سے مختلف ہے، تاہم انصاراللہ اور تہران کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔ ایران نے اس گروہ کو سیاسی، فوجی اور دیگر شعبوں میں مدد فراہم کی ہے، جس کی وجہ سے انصاراللہ کو اکثر ایران کا اتحادی یا اس کے زیرِ حمایت گروہ کہا جاتا ہے۔ انصاراللہ کی تاریخ ایران سے تعلقات سے بھی پرانی ہے۔ یہ تحریک 1990 کی دہائی میں شمالی یمن میں ایک زیدی مذہبی و سیاسی تحریک کے طور پر ابھری، جب یمن پر صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت تھی۔ حسین الحوثی اور ان کے ساتھیوں نے حکومتی پالیسیوں اور امریکی و سعودی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی۔ 2004 میں حسین الحوثی ہلاک ہوئے، جس کے بعد تحریک کی قیادت ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے سنبھالی۔ 2014 میں انصاراللہ نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد ملک ایک شدید خانہ جنگی میں گھر گیا۔ 2015 میں سعودی عرب نے یمن میں فوجی مداخلت کی، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس کی سرحد کے قریب ایران کا حامی ایک طاقتور مسلح گروہ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ اسی مداخلت نے ریاض اور انصاراللہ کے درمیان دشمنی کو مزید گہرا کر دیا، جو آج تک جاری ہے۔
باب المندب کی اسٹریٹیجک اہمیت
باب المندب یمن اور افریقہ کے درمیان ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور وہاں سے بحر ہند اور عالمی تجارتی راستوں سے ملاتی ہے۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کرنے والے بیشتر بحری جہاز اسی راستے کے محتاج ہیں۔ انصاراللہ نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن کو نمایاں طور پر مستحکم کر لیا ہے۔ بندرگاہی شہر مخا اور کئی اہم جزائر پر قبضے کے بعد یہ گروہ باب المندب سے گزرنے والی بحری ٹریفک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق انصاراللہ کی رسائی اب اس اہم بحری گزرگاہ تک پہنچ چکی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انصاراللہ نے دنیا کے تمام ممالک کے بحری جہازوں کو روکنے کا اعلان نہیں کیا۔ گروہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں مخصوص حریفوں کے خلاف ہیں، خصوصاً سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف، جو دونوں فریقوں کے درمیان دہائیوں پرانی دشمنی کی عکاسی کرتی ہیں