ڈاکٹر سید اختر علی شاہ
ایک جدید ریاست محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں ہوتی جہاں رسمی قوانین اور ادارے موجود ہوں۔ ریاست اپنی قانونی حیثیت اور جواز اپنے شہریوں کے ساتھ قائم سماجی معاہدے سے حاصل کرتی ہے۔
ایسے انتظام کے تحت شہریوں پر قانون کی پابندی، ریاستی اداروں کی بالادستی تسلیم کرنے، ٹیکس ادا کرنے اور شہری ذمہ داریاں پوری کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کے بدلے میں ریاست کی سب سے بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان، مال، آزادی اور عزت و وقار کا تحفظ ہے۔
ہابز، لاک اور روسو کے سماجی معاہدے کے تصور کے حوالے سے مختلف نقطۂ نظر تھے، تاہم وہ ایک بنیادی نکتے پر متفق تھے کہ ریاست کا وجود امن اور سلامتی کے قیام اور عوامی انتشار کی روک تھام کے لیے ہے۔ اسی لیے ریاست قانون کے تحت طاقت کے استعمال کی مجاز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر شہری ریاستی اداروں کے مقابلے میں پُرتشدد غیر ریاستی عناصر سے زیادہ خوفزدہ ہونے لگیں تو اس صورتحال کو محض معمول کے امن و امان کا مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ معاملہ خود ریاست کی رِٹ کا سوال بن جاتا ہے۔
اسی تناظر میں بنوں اور لکی مروت کی صورتحال سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔ پولیس اہلکاروں، پولیس لائنز، تھانوں، پولیس چوکیوں اور پولیس کی گاڑیوں کو بار بار نشانہ بنایا جانا، عسکریت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ان اضلاع میں پائی جانے والی مسلسل عدم تحفظ کی کیفیت انتہائی تشویشناک ہے اور اسے الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان تمام عوامل کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک زیادہ تشویشناک صورتحال سامنے آتی ہے: ریاست کی رِٹ بتدریج کمزور ہو رہی ہے۔
ریاست کی رِٹ کو محض پولیس، نیم فوجی دستوں یا فوج کی جسمانی موجودگی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ریاست کی رِٹ اس وقت قائم ہوتی ہے جب قانون قابلِ نفاذ ہو، سرکاری اہلکار بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنے فرائض انجام دے سکیں، شہری بلاخوف سفر کر سکیں، بازار کھلے رہیں، اسکول فعال ہوں، عدالتیں کام کرتی رہیں اور ضلعی انتظامیہ اپنے دائرۂ اختیار کے تمام علاقوں میں مؤثر اختیار استعمال کر سکے۔
جب پولیس اہلکار مسلسل نشانہ بننے لگیں، رات کے بعد نقل و حرکت خطرناک ہو جائے اور مسلح گروہ بار بار اپنی موجودگی کا اظہار کرنے کے قابل ہوں تو ریاست جسمانی طور پر موجود ہونے کے باوجود اس کا مؤثر اختیار سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔
یہ فرق اہم ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بنوں یا لکی مروت سے ریاست غائب ہو چکی ہے۔ پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سکیورٹی فورسز بدستور عسکریت پسندوں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اور ان میں سے بہت سے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ اس لیے تشویش ریاست کی مکمل عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کی رِٹ کے دائرۂ اثر میں بتدریج کمی ہے۔
اسی لیے دہشت گردی کا جائزہ صرف ہلاکتوں کی تعداد، کارروائیوں یا عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کی تباہی کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔ ٹیکٹیکل کامیابی، حکمرانی کی بحالی کے مترادف نہیں ہوتی۔
انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کو حقیقی معنوں میں اسی وقت کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے جب فائرنگ ختم ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن معمول کے مطابق کام کرے، سرکاری اہلکار بلاخوف نقل و حرکت کر سکیں، اسکول کھلے رہیں، بازار آباد ہوں، ڈاکٹر اسپتالوں میں موجود رہیں اور عام شہری عسکریت پسندوں کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کرنے کے بجائے معمول کے مطابق اپنی نقل و حرکت کر سکیں۔
کامیابی کا حقیقی پیمانہ معمول کی زندگی کی واپسی ہے۔ عسکریت پسندوں کا تشدد نفسیاتی نوعیت کا بھی ہوتا ہے۔ پولیس چوکی پر حملے کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ عوام کو یہ پیغام دینا بھی ہوتا ہے کہ ریاست اپنے ہی نمائندوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ ایک پولیس اہلکار کا قتل فوری سانحے سے کہیں آگے کے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس سے سرکاری اہلکاروں میں خوف، انتظامیہ میں تذبذب اور شہریوں میں بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ نفسیاتی مقابلہ ریاستی اختیار کی جنگ کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کا جواب محض چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھانے یا وقفے وقفے سے کارروائیاں کرنے میں نہیں ہے۔ پائیدار ردعمل کے لیے فعال ادارے، مؤثر پولیسنگ، انٹیلی جنس میں برتری اور عوام کا اعتماد ضروری ہے۔
اس کوشش میں پولیس کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ پُرامن علاقوں میں دہشت گردی بالآخر قانون کے نفاذ اور حکمرانی کا چیلنج ہے، اگرچہ بعض حالات میں عارضی طور پر فوجی معاونت ضروری ہو سکتی ہے۔ بنوں، لکی مروت اور دیگر ہائی رسک اضلاع میں تعینات پولیس کو جدید اسلحہ، بکتر بند تحفظ، نگرانی کی ٹیکنالوجی، مناسب افرادی قوت اور قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معاونت درکار ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو بھی تفتیش کاروں، تجزیہ کاروں، انٹیلی جنس صلاحیت، ٹیکنالوجی اور پراسیکیوشن سپورٹ کے حوالے سے مضبوط بنانا ہوگا۔ سول اور فوجی اداروں کے درمیان انٹیلی جنس کا تبادلہ شخصیات یا عارضی انتظامات پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ادارہ جاتی شکل دی جانی چاہیے۔ تاہم صرف سکیورٹی اقدامات ریاست کی رِٹ بحال نہیں کر سکتے۔
سول انتظامیہ کا فعال اور مؤثر رہنا ضروری ہے۔ محکمہ مال، محکمہ صحت، تعلیمی ادارے، مقامی حکومتیں اور نظامِ انصاف، یہ سب مل کر ریاست کی روزمرہ موجودگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر سکیورٹی فورسز کارروائی کریں لیکن اس کے بعد سول ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہیں تو خلا برقرار رہتا ہے، اور خلا بالآخر پُر ہو جاتے ہیں۔
مقامی امن کمیٹیوں یا مسلح لشکروں پر انحصار بھی احتیاط کا متقاضی ہے۔ عسکریت پسندی کے خلاف جدوجہد میں برادری اور مقامی آبادی کا تعاون ناگزیر ہے، لیکن ریاست اپنی طاقت کے استعمال کی ذمہ داری مستقل طور پر عام شہریوں کو منتقل نہیں کر سکتی۔ ایک جدید ریاست اپنی قانونی طاقت کے استعمال پر اجارہ داری سے اپنا بڑا جواز حاصل کرتی ہے۔ جب متعدد مسلح عناصر اختیار استعمال کرنا شروع کر دیں تو جواب دہی کمزور ہوتی ہے اور متوازی ڈھانچے وجود میں آتے ہیں۔
شہریوں کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے؛ انہیں خود پولیس بننے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ بنوں اور لکی مروت کی صورتحال کو محض ایک مقامی سکیورٹی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ خیبر پختونخوا اور وفاق، دونوں کے لیے ایک ابتدائی انتباہ ہے۔
پاکستان پہلے ہی اس بات کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے کہ عسکریت پسندی کو فیصلہ کن ردعمل دینے سے پہلے اپنی جگہ بنانے کا موقع دیا گیا۔ سوات، سابق قبائلی علاقوں اور دہشت گردی کی سابقہ لہروں کے تجربات سے ہمیں یہ سبق ملنا چاہیے تھا کہ عسکریت پسندوں کا اثر و رسوخ کبھی راتوں رات نہیں بڑھتا۔ یہ خوف، ٹارگٹ کلنگ، آزادانہ نقل و حرکت، سرکاری اہلکاروں کو دھمکانے اور معمول کی انتظامی سرگرمیوں کو بتدریج کمزور کرنے کے ذریعے مرحلہ وار بڑھتا ہے۔
اکثر سب سے خطرناک مرحلہ اس وقت آتا ہے جب ریاست باضابطہ طور پر یہ تسلیم کرنے سے پہلے ہی کہ اس کا اختیار کم ہو رہا ہے، اس کی رِٹ متاثر ہونا شروع ہو چکی ہوتی ہے۔
لہٰذا ردعمل جامع ہونا چاہیے۔ عسکریت پسندی کو بیک وقت سکیورٹی، پولیسنگ، انٹیلی جنس، حکمرانی اور عوامی اعتماد کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو عسکریت پسندوں سے نہ صرف جسمانی جگہ چھیننی ہوگی بلکہ انہیں نفسیاتی جگہ بھی نہیں دینی ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو یقین ہو کہ قانون ان کا تحفظ کرے گا اور ریاستی ادارے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
بالآخر امن اور سلامتی حکومت کی جانب سے شہریوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی ترین حقوق میں شامل ہیں اور ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہیں۔ جب شہری اپنے گھروں، سڑکوں اور بازاروں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں؛ جب پولیس مسلسل حملوں کی زد میں ہو؛ اور جب مسلح غیر ریاستی عناصر اپنی موجودگی منوانے کے قابل ہو جائیں تو معاملہ محض بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال تک محدود نہیں رہتا۔
یہ خود سماجی معاہدے کا سوال بن جاتا ہے۔ اور آج بنوں اور لکی مروت سے اٹھنے والا یہ سوال بتدریج نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔