پاک ٹوڈے کی خصوصی تحریر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کمشیر کمیٹی کے ممبر سردار امان کشمیری نے رات کو عوامی احتجاج سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انقلاب آتے رہے ہیں، اس کے باوجود کہ سیکیورٹی فورسز کے پاس ہتھیار زیادہ ہوتے ہیں، لیکن جب عوام کا سمندر احتجاج کی صورت میں سامنے آتا ہے تو فورسز بے بس ہو جاتی ہیں۔ ’’یہ دھرتی ہماری ماں ہے، آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زمین کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
مطالبات کیا ہیں؟
احتجاج کی قیادت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی / جے کے جے اے اے سی) کر رہی ہے۔ کمیٹی نے 38 نکاتی منشور پیش کیا ہے جس میں سب سے اہم مطالبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین (ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے آنے والے اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں مقیم) کے لیے مخصوص 12 نشستوں کا خاتمہ ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں مقامی آبادی کی نمائندگی کم کرتی ہیں اور باہر کے لوگوں کو غیر متناسب اثر و رسوخ دیتی ہیں۔ دیگر مطالبات میں بجلی اور آٹے کی سبسڈی، مہنگائی کنٹرول، کرپشن کے خلاف کارروائی، بہتر صحت و تعلیم کی سہولیات، انفراسٹرکچر کی بہتری اور حکومتی افسران و منتخب نمائندوں کے خصوصی مراعات کا خاتمہ شامل ہیں۔
تین ماہ میں کہاں اور کب احتجاج ہوئے؟
احتجاج جون 2026 کے اوائل سے شروع ہوئے۔ مئی کے آخر میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 5 جون کو حکومت نے جے اے اے سی کو دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دے دیا۔ 7 سے 9 جون تک راولاکوٹ میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جہاں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے بعد مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، باغ، سدھنوتی اور دیگر علاقوں میں ہڑتالیں، دھرنے، سڑکیں بلاک کرنا اور لانگ مارچ شروع ہو گئے۔ جولائی میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران (جسے جے اے اے سی نے بائیکاٹ کیا) احتجاج دوبارہ شدت اختیار کر گئے، راولاکوٹ سے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ ہوا اور کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ ستمبر تک راولاکوٹ میں مسلسل دھرنے اور ہڑتالیں جاری ہیں جبکہ کچھ اضلاع میں انٹرنیٹ بندش اور نقل و حرکت پر پابندیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔
کتنا جانی نقصان ہوا؟
مقامی لوگوں کے مطابق کشمیر میں اب تک 150 سے زائد افراد جانبحق ہوئے ہیں : مقامی تخمینوں اور رہائشیوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی (بشمول سات قانون نافذ کرنے والے اہلکار)۔ مظاہرین کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ 150 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جولائی کے آخر تک کم از کم 40 ہلاکتوں (34 مظاہرین اور 6 پولیس/پیرا ملٹری) کی تصدیق کی۔ دیگر ذرائع بعد میں کل ہلاکتوں کا تخمینہ 150 تک لگاتے ہیں، تاہم سرکاری اور مظاہرین کے اعداد و شمار میں واضح فرق موجود ہے۔
آزاد کشمیر اور پاکستان حکومت کا موقف
آزاد کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو کالعدم قرار دیا، رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کیں، انٹرنیٹ بندش نافذ کی اور سیکیورٹی فورسز تعینات کیں۔ کچھ مواقع پر مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی مگر مہاجر نشستوں کے خاتمے کو آئینی ترمیم کے بغیر ناممکن قرار دیا گیا۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے صوبائی انتظامیہ کے کریک ڈاؤن کی حمایت کی۔ کچھ وزراء نے مظاہرین کو ’فسادی‘ قرار دیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے متنازعہ بیانات بھی سامنے آئے جن میں انہوں نے مظاہرین کو دشمنوں کی صف میں رکھا۔ حکومت کا موقف ہے کہ پہلے کچھ اقتصادی مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے مگر سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی ممکن نہیں۔ دوسری جانب مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے بنیادی حقوق نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
گورننس اور سیاسی نمائندگی کا بحران
ڈینش خان (فرینکلن اینڈ مارشل کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر) کا کہنا ہے کہ حکومت کی سخت کارروائی مظاہرین کے مرکزی موقف کو مضبوط کر رہی ہے کہ آزاد کشمیر کو “سیکیورٹی مسئلہ” سمجھا جا رہا ہے بجائے اس کے کہ اسے جائز سیاسی شکایات رکھنے والی آبادی سمجھا جائے۔ تجزیہ کار سید مشاہد حسین نقوی کے مطابق یہ صرف معاشی احتجاج نہیں بلکہ گورننس، نمائندگی اور اداروں کی ساکھ کا سوال ہے۔ جے اے اے سی نے وہ خلا پر کیا جو روایتی سیاسی جماعتیں نہیں کر سکیں۔
میڈیا پابندیاں اور بیانیہ کنٹرول
مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر تجزیہ کار کامران بخاری کا مشاہدہ ہے کہ میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندیاں “بیانیہ کنٹرول” کی کلاسیکی کوشش ہیں، لیکن سوشل میڈیا اور اے آئی کے دور میں یہ الٹا اثر کرے گی اور صورتحال کو مزید خراب بنائے گی۔
معاشی شکایات سے سیاسی مطالبے تک
کئی ماہرین کہتے ہیں کہ تحریک بجلی اور آٹے کی قیمتوں سے شروع ہوئی تھی، مگر اب یہ سیاسی خودمختاری، مقامی نمائندگی اور 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بن گئی ہے۔ یہ نشستیں اسلام آباد کو مقامی سیاست پر اثر انداز ہونے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ مائیکل کگل مین (اٹلانٹک کونسل) نے اسے طویل عرصے سے موجود گورننس کی ناکامیوں کی علامت قرار دیا۔
ریاستی ردعمل پر تنقید
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا کہ بحران سیاسی اور سماجی معاشی شکایات، اداروں پر عدم اعتماد اور ریاست کے جارحانہ ردعمل (بشمول غیر متناسب طاقت کے استعمال) کا نتیجہ ہے۔ سیاسی حل کی بجائے طاقت کا استعمال پولرائزیشن بڑھا رہا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جے اے اے سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اور کریک ڈاؤن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مزید الگ تھلگ پن پیدا کرے گا۔ بھارتی تجزیہ کار اسے پاکستان کی “آزاد کشمیر” کی داستان کے خاتمے اور ریاستی کنٹرول کے بحران کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ پاکستانی جانب سے کچھ آوازیں اسے بیرونی مداخلت یا قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتی ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی حل اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔