عمران خان کو عدالتی حکم کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کرنا ان کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے: علیمہ خان

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اپنے بھائی کی جیل میں گرتی ہوئی صحت، طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں شدید احتجاج کا خبردار کر دیا ہے۔

​ذرائع اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سخت اور نامساعد حالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے آخر میں قید کے دوران عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے وقت پر مناسب طبی توجہ فراہم نہیں کی گئی۔ بعد ازاں طبی معائنے میں یہ بات ثابت ہوئی کہ بروقت علاج نہ ملنے کے باعث ان کی بینائی کو مستقل نقصان پہنچا ہے۔

​علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں عمران خان کی غیر مستحکم بلڈ پریشر اور صحت سے متعلق تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر پھیلا کر اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر اور انسانی رابطوں سے محروم کر کے ذہنی و جسمانی اذیت دی جا رہی ہے، تاہم ان تمام مظالم کے باوجود عمران خان اپنے اصولوں پر مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔

​علیمہ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے 18 اگست 2026 کے واضح فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی موجودگی بھی لازمی قرار دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس حکم پر عمل درآمد کے لیے دو دن کی مہلت دی تھی، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ تمام تر مدّت گزر جانے کے بعد بھی جیل انتظامیہ اور حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا۔

​علیمہ خان نے اپنی گفتگو میں درج ذیل اہم مطالبات رکھے اور پُرامن احتجاج کا اعلان کیا:

​عدالتی حکم پر فوری عمل درآمد: سپریم کورٹ کے 18 اگست کے فیصلے پر بلا تاخیر عمل کرتے ہوئے عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا کامل اور آزادانہ معائنہ ہو سکے۔

​مقدمات کی فوری سماعت: القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیسز میں ضمانت کی درخواستوں پر غیر معمولی تاخیر کو ختم کیا جائے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کی فوری سماعت کی جائے۔

​انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور جیل انتظامیہ نے عدالتی احکامات کی پاسداری نہ کی اور عمران خان کی صحت کی حفاظت یقینی نہ بنائی تو عوامی و سیاسی سطح پر شدید احتجاج کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

Related posts

چین کی قیادت میں بریکس اے آئی اوپن سورس زون اور اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ کی تجویز

حوثیوں کے حملے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ ہیں: وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان کی ٹیسٹ رینکنگ مزید ایک درجہ گر گئی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آخری نمبر پر پہنچ گئی