چین کی قیادت میں بریکس اے آئی اوپن سورس زون اور اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ کی تجویز

نئی دہلی (پاک ٹوڈے): چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں برکس سربراہی کانفرنس کے اختتام پر مصنوعی ذہانت، تجارت اور صنعتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اقدامات کی تجویز پیش کی ہے۔

سرکاری چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ ’’گریٹر بریکس انیشی ایٹو‘‘ کی کامیابی کے لیے عملی تعاون کی مضبوط بنیاد قائم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کو باہمی تعاون مزید بڑھانے، صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم رکھنے اور ایک مربوط مارکیٹ کی تشکیل کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین برکس اے آئی اوپن سورس زون کے قیام میں قیادت کرے گا، جس کے تحت بڑے لینگویج ماڈلز، اے آئی ٹریننگ اور اوپن اے آئی ایکو سسٹم کے حوالے سے تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

شی جن پنگ نے برکس اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جبکہ انہوں نے کہا کہ چین آئندہ سال تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو فروغ دینے کے لیے برکس سروس ٹریڈ فورم کی میزبانی کرے گا۔

برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ ایران، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، جبکہ مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے 10 شراکت دار ممالک بھی گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔

چین اور روس اس وسیع تر گروپ کو بعض اوقات ’’گریٹر برکس‘‘ کا نام دیتے ہیں، جس کا مقصد گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔برکس اجلاس میں اہم تجاویز پیش

چین کی قیادت میں بریکس اے آئی اوپن سورس زون اور اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ کی تجویز

نئی دہلی (پاک ٹوڈے): چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں برکس سربراہی کانفرنس کے اختتام پر مصنوعی ذہانت، تجارت اور صنعتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اقدامات کی تجویز پیش کی ہے۔

سرکاری چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ ’’گریٹر بریکس انیشی ایٹو‘‘ کی کامیابی کے لیے عملی تعاون کی مضبوط بنیاد قائم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کو باہمی تعاون مزید بڑھانے، صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم رکھنے اور ایک مربوط مارکیٹ کی تشکیل کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین برکس اے آئی اوپن سورس زون کے قیام میں قیادت کرے گا، جس کے تحت بڑے لینگویج ماڈلز، اے آئی ٹریننگ اور اوپن اے آئی ایکو سسٹم کے حوالے سے تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

شی جن پنگ نے برکس اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جبکہ انہوں نے کہا کہ چین آئندہ سال تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو فروغ دینے کے لیے برکس سروس ٹریڈ فورم کی میزبانی کرے گا۔

برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ ایران، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، جبکہ مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے 10 شراکت دار ممالک بھی گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔

چین اور روس اس وسیع تر گروپ کو بعض اوقات ’’گریٹر برکس‘‘ کا نام دیتے ہیں، جس کا مقصد گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔

Related posts

حوثیوں کے حملے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ ہیں: وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان کی ٹیسٹ رینکنگ مزید ایک درجہ گر گئی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آخری نمبر پر پہنچ گئی

ساہیوال اور سرگودھا میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 36 گھنٹوں میں 34 گرفتار