ساہیوال/سرگودھا (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 27 ستمبر کے احتجاج کی کال سے قبل کارکنوں اور عہدیداروں کے خلاف گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، ساہیوال ضلع میں گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران تقریباً 34 افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں ساہیوال اور چیچہ وطنی تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کارکن اور عہدیدار شامل ہیں، جبکہ 6 افراد کو پولیس نے حلف نامے لینے اور اس یقین دہانی پر رہا کردیا کہ وہ کسی ریلی یا جلوس میں شرکت نہیں کریں گے۔
دریں اثنا، پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے حکام کے ذریعے بھی پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک واقعے میں فیسکو سردارپور نون کے ایس ڈی او محمد عاطف نے پولیس کو شکایت دی کہ ڈھل گاؤں میں نعیم حیدر نامی شخص مبینہ طور پر بجلی چوری کرتے ہوئے پایا گیا۔ شکایت کے مطابق وہ اپنے عوامی سیکرٹریٹ میں بجلی چوری کر رہا تھا اور میٹر کی سیلیں بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئیں۔
شکایت پر بھیرہ پولیس نے نعیم حیدر پنجوتھہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
دوسری جانب نعیم حیدر کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ مقدمہ اس لیے درج کیا گیا کیونکہ عوامی سیکرٹریٹ کو 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایک اور واقعے میں فیسکو سیال موڑ سب ڈویژن کے لائن مین سکندر حیات نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ڈوڈہ گاؤں میں ڈیوٹی پر موجود تھے جب بعض بااثر افراد نے ان پر تشدد کیا۔
سیال موڑ کے ایس ڈی او کی شکایت پر لکسیاں پولیس نے محمد خان، محمد عمران اور محمد نواز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد تینوں افراد کا تعلق پی ٹی آئی سے بتایا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ان کارروائیوں کو 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پارٹی کارکنوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے، تاہم پولیس اور فیسکو کی جانب سے اس الزام پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔