پاکستان کی افغانستان کے متبادل وسطی ایشیائی راستوں تک رسائی کی کوشش اور اس کے معاشی اثرات
پاک ٹوڈے کی خصوصی رپورٹ
2021 کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تجارتی تعلقات میں آنے والی تبدیلیوں کو محض دوطرفہ تجارت میں کمی کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور راہداری کے پورے جغرافیے میں تبدیلی آئی۔ افغانستان نے پاکستان پر اپنے تجارتی انحصار کو کم کرنے کے لیے ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کا استعمال بڑھایا، جبکہ پاکستان نے بھی افغانستان کے راستے سے حاصل ہونے والی علاقائی تجارتی اہمیت کے متبادل کے طور پر ایران، چین اور شمالی راستوں کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی بڑھانے کی کوشش کی۔
تاہم دونوں ممالک کے لیے اس تبدیلی کے نتائج یکساں نہیں رہے۔ افغانستان ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہونے کی وجہ سے اپنے بیرونی تجارتی راستوں کو متنوع بنانے پر مجبور تھا، اس لیے پاکستان کے راستے میں رکاوٹ کے بعد اس نے متبادل راستوں کی طرف تیزی سے رخ کیا۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس سمندر تک براہِ راست رسائی موجود ہے۔ مگر اس کے لیے نقصان افغانستان کی منڈی اور افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک حاصل ہونے والی مختصر، نسبتاً کم لاگت اور جغرافیائی طور پر موزوں زمینی رسائی کا بند ہونا تھا۔
اسی لیے 2021 کے بعد کی صورت حال کو پاکستان کی ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں اس نے افغانستان کے کم ہوتے کردار کی جگہ وسطی ایشیا کے ساتھ براہِ راست یا متبادل زمینی رابطے پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کوشش اب تک افغانستان کے راستے سے حاصل ہونے والے تجارتی فائدے کا متبادل ثابت نہیں ہوئی۔
دوطرفہ تجارت اور راہداری تجارت الگ معاملات ہیں
اس موضوع کے اعدادوشمار کو سمجھنے کے لیے دوطرفہ تجارت اور راہداری تجارت میں فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 1.38 ارب ڈالر رہی۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست درآمدات و برآمدات کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس کے برعکس راہداری تجارت میں وہ سامان شامل ہوتا ہے جو افغانستان کی بیرونی تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں اور زمینی راستوں سے گزرتا ہے۔ اس لیے راہداری تجارت کی مالیت اور کنٹینروں کی تعداد کو دوطرفہ تجارت کے اعداد کے ساتھ براہِ راست ملانا درست نہیں۔
اسی وجہ سے مختلف رپورٹس میں 594 ملین ڈالر، 367 ملین ڈالر، 1.38 ارب ڈالر، 5 ارب ڈالر یا 6.7 ارب ڈالر جیسے اعداد سامنے آتے ہیں۔ یہ لازماً ایک دوسرے سے متضاد اعداد نہیں بلکہ مختلف تجارتی پیمانوں، ادوار اور تعریفوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس رپورٹ میں بنیادی توجہ راہداری تجارت اور اس کے جغرافیائی اثرات پر ہے، کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جو پاکستان کی علاقائی تجارتی اہمیت اور وسطی ایشیا تک رسائی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
پاکستان کے راستے افغانستان کی راہداری تجارت میں نمایاں کمی
پاکستان کے راستے افغانستان کی راہداری تجارت میں آنے والی تبدیلی اس پورے رجحان کی سب سے واضح علامت ہے۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق موجودہ افغان حکومت کے اگست 2021 میں اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان کے راستے افغانستان کی راہداری تجارت تقریباً 89 ہزار کنٹینروں اور قریب 5 ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل تھی۔
مالی سال 2022-23 میں یہ حجم بڑھ کر تقریباً 102,886 کنٹینروں اور 6.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ لیکن اس کے بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔
مالی سال 2025-26 میں راہداری تجارت تقریباً 11,592 کنٹینروں اور 367 ملین ڈالر تک محدود رہ گئی۔
یہ کمی صرف افغانستان جانے والے سامان کے حجم میں کمی نہیں بلکہ پاکستان کے ایک اہم علاقائی ٹرانزٹ روٹ کی کشش کم ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔
تجارتی راستے صرف جغرافیے کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوتے۔ ان کے لیے سرحدی تسلسل، کم لاگت، تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس، سامان کی حفاظت اور مستقبل کے بارے میں یقین ضروری ہوتا ہے۔ بار بار سرحدی بندش اور غیر یقینی صورت حال تاجر کو متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
افغانستان نے پاکستان کے متبادل تلاش کیے
پاکستان کے راستے میں مسلسل رکاوٹوں کے بعد افغانستان نے اپنی تجارت کو ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کی طرف منتقل کرنا شروع کیا۔
عالمی بینک کی افغانستان سے متعلق معاشی رپورٹس میں بھی سرحدی رکاوٹوں اور بندشوں کے نتیجے میں تجارتی راستوں کی تبدیلی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کا استعمال بڑھنا اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے۔
ایران کی چابہار بندرگاہ افغانستان کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں کا ایک متبادل سمندری راستہ فراہم کرتی ہے، جبکہ وسطی ایشیا کے زمینی راستے افغانستان کو شمال کی جانب علاقائی منڈیوں سے جوڑتے ہیں۔
اس تبدیلی کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ افغانستان نے ایک متبادل راستہ استعمال کر لیا۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ تاجروں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور تجارتی اداروں نے متبادل راستوں کے ساتھ اپنے کاروباری انتظامات بھی بنانا شروع کر دیے۔
یہ متبادل راستے وقت کے ساتھ قابلِ اعتماد اور مسابقتی ثابت ہو رہے ہیں، اس لیے یہ پاکستان کی سابقہ راہداری حیثیت کو بحال کرنا محض سرحد دوبارہ کھولنے سے ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستان نے افغانستان کے متبادل کے طور پر وسطی ایشیا کی طرف رخ کیا
یہاں پاکستان کے لیے صورتحال مختلف تھی۔
افغانستان پاکستان کے لیے صرف ایک تجارتی منڈی نہیں تھا بلکہ وسطی ایشیا تک زمینی رسائی کا ایک قدرتی پل بھی تھا۔ افغانستان کے ذریعے پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں تک نسبتاً مختصر زمینی راستہ حاصل کر سکتا تھا۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات میں خرابی اور سرحدی بندشوں کے بعد پاکستان کو اس علاقائی رابطے کے متبادل تلاش کرنا پڑے۔ چنانچہ ایران، چین اور شمالی راستوں، خصوصاً خنجراب اور سوست کے ذریعے وسطی ایشیا اور چین کی طرف رسائی بڑھانے پر توجہ دی گئی۔
یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے راستے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کے بعد اپنے علاقائی تجارتی مفادات کو دوسرے راستوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔
لیکن بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ افغانستان کا راستہ پاکستان کے لیے جغرافیائی اعتبار سے ایک منفرد فائدہ رکھتا تھا۔ اس کے مقابلے میں متبادل راستوں میں زیادہ مسافت، اضافی سرحدی مراحل، مختلف کسٹمز نظام اور زیادہ لاگت شامل ہیں۔
لہٰذا پاکستان نے متبادل راستے ضرور تلاش کیے، مگر افغانستان کے راستے کے برابر معاشی اور جغرافیائی فائدہ فوری طور پر پیدا نہیں کر سکا، اور یہی اس پورے بحران کا مرکزی نکتہ ہے۔
پاکستان کو اصل نقصان کہاں ہوا؟
پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا نقصان صرف افغان تجارت کے کم ہونے تک محدود نہیں۔ کیونکہ افغانستان کے راستے پاکستان کو دو بڑے فوائد حاصل ہوتے تھے۔
اول، افغانستان پاکستان کی بندرگاہوں، خصوصاً کراچی کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جڑتا تھا۔ اس سے پاکستان کو بندرگاہی، ٹرانسپورٹ، کسٹمز، گودام اور دیگر خدمات سے آمدنی حاصل ہوتی تھی۔
دوم، افغانستان پاکستان کو وسطی ایشیا تک ایک مختصر زمینی راستہ فراہم کرتا تھا۔ اس راستے سے پاکستان نہ صرف افغان منڈی بلکہ وسیع تر وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی پوزیشن میں تھا۔
جب افغانستان نے متبادل راستے اختیار کیے تو پاکستان نے پہلے فائدے کا ایک حصہ کھویا، جبکہ دوسرے فائدے یعنی وسطی ایشیا تک افغانستان کے ذریعے حاصل ہونے والی رسائی کو دوسرے راستوں سے بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن ان متبادل راستوں اس خلا کو پر کرنا ناممکن ہے۔
خیبر پختونخوا: سرحدی تجارت کے سکڑنے کا براہِ راست اثر
اس تبدیلی کی قیمت پاکستان کے سرحدی علاقوں نے بھی ادا کی۔ خیبر پختونخوا میں افغانستان کے ساتھ تجارت سے وابستہ معیشت صرف بڑے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان تک محدود نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ٹرانسپورٹ، کسٹمز کلیئرنس، گودام، ہوٹل، ورکشاپ، سرحدی منڈیاں، مزدوری اور چھوٹے کاروبار وابستہ تھے۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سرحدی بندش کے نتیجے میں صوبے کی آمدنی میں 53.02 فیصد کمی ہوئی، جبکہ بنیادی ترقیاتی محصول 7.42 ارب روپے سے کم ہو کر 3.48 ارب روپے رہ گیا۔
سرحدی تجارت میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ جب ٹرک اور کنٹینر سرحد تک نہیں پہنچتے تو نقصان صرف درآمد کنندہ یا برآمد کنندہ کو نہیں ہوتا۔ ٹرک ڈرائیور، مزدور، گودام، ورکشاپ، ہوٹل اور سرحدی بازار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اس طرح سرحدی تجارت کا بحران ایک وسیع مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بلوچستان میں بھی سرحدی معیشت متاثر ہوئی
بلوچستان میں چمن اور دیگر سرحدی علاقوں کی معیشت بھی افغانستان کے ساتھ تجارت اور سرحدی آمدورفت سے منسلک ہے۔
چمن چیمبر سے منقول سابقہ رپورٹس میں سرحدی بندش کے دوران روزانہ 100 سے 150 ملین روپے تک نقصان اور تقریباً 50 ہزار چھوٹے و درمیانے درجے کے تاجروں کے متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔
2025-26 میں طویل سرحدی بندش کے دوران بھی بلوچستان کے کاروباری حلقوں نے اسی نوعیت کے نقصانات اور مشکلات کی نشاندہی کی۔
سرحدی بندش کا وسیع مالی نقصان
2025-26 کی طویل بندش کے دوران پاکستان کے تاجروں اور کاروباری حلقوں نے بڑے مالی نقصانات کی نشاندہی کی۔
عرب نیوز نے جنوری 2026 میں پاکستانی تاجروں کے حوالے سے ماہانہ تقریباً 50 ارب روپے، یا 177 ملین ڈالر کے نقصان کا ذکر کیا۔
بعد میں بزنس ریکارڈر میں ایک تحقیقی اندازے کے حوالے سے اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کے دوران پاکستان کے لیے تقریباً 4.5 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ پیش کیا گیا، جبکہ اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 تک برآمدات اور راہداری آمدنی کو ملا کر تقریباً 805 ملین ڈالر کے نقصان کا اندازہ بھی رپورٹ ہوا۔
اکتوبر 2025 کے بعد کے حالات
اکتوبر 2025 کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور طویل سرحدی بندش نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کر دیا۔
بڑی تعداد میں ٹرک اور کنٹینر سرحد کے دونوں جانب پھنس گئے، جس سے پہلے سے موجود تجارت بھی متاثر ہوئی۔ بعض صورتوں میں وہ سامان بھی رک گیا جو پہلے ہی پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچ چکا تھا۔
بعد میں حکومت کی جانب سے بعض راہداری سامان کو دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دینا اس بات کی علامت تھی کہ بحران صرف نئی تجارت تک محدود نہیں تھا بلکہ سپلائی چین میں پہلے سے موجود مال کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔
اس صورتحال نے تاجروں کے لیے اضافی اسٹوریج، گاڑیوں کے کھڑے رہنے، ترسیل میں تاخیر اور ادائیگیوں میں رکاوٹ جیسے مسائل پیدا کیے۔
اصل مقابلہ راستوں کا نہیں، اعتماد کا ہے
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ کراچی کی بندرگاہیں، افغانستان سے قربت اور خطے میں اس کا محلِ وقوع اب بھی اہم اثاثے ہیں۔ لیکن جدید علاقائی تجارت میں صرف جغرافیہ کافی نہیں۔
ایک تجارتی راستہ اسی وقت مسابقتی بنتا ہے جب اس پر سامان مستقل طور پر حرکت کر سکے، سرحدی بندش کا خطرہ کم ہو، کسٹمز کا نظام تیز اور واضح ہو اور تاجر کو یہ اعتماد ہو کہ آج استعمال کیا جانے والا راستہ کل بھی دستیاب ہوگا۔
افغانستان نے پاکستان کے راستے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کے بعد ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں میں اپنی تجارت کا حصہ بڑھایا۔ اس عمل نے پاکستان کے سامنے ایک نئی مسابقت پیدا کر دی ہے۔
اب پاکستان کو صرف یہ ثابت نہیں کرنا کہ اس کے پاس جغرافیائی طور پر بہترین راستہ موجود ہے؛ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ یہ راستہ قابلِ اعتماد، مستقل اور مسابقتی ہے۔
خلاصہ
2021 کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تجارتی تعلقات میں آنے والی تبدیلی کو زیادہ درست طور پر علاقائی تجارتی راستوں کی ازسرِنو تشکیل کہا جا سکتا ہے۔
افغانستان نے پاکستان پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کی طرف رخ کیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے راستے افغانستان کی راہداری تجارت میں نمایاں کمی آئی اور پاکستان نے ٹرانزٹ، کسٹمز، ٹرانسپورٹ اور سرحدی کاروبار سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ کھو دیا۔
پاکستان نے اس صورت حال کا جواب وسطی ایشیا تک رسائی کے متبادل راستے تلاش کرکے دیا۔ ایران، چین اور خنجراب سمیت شمالی راستوں پر توجہ اسی کوشش کا حصہ ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے راستے میں پیدا ہونے والے خلا کو وسطی ایشیا کی طرف نئے تجارتی راستوں سے پُر کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اب تک ان متبادل راستوں سے وہ جغرافیائی، تجارتی اور معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا جو افغانستان کے ذریعے ممکن تھا۔
یہی پاکستان کے لیے اصل نقصان ہے۔
افغانستان نے پاکستان کے راستے کا متبادل تلاش کر کے اپنے تجارتی خطرے کو کم کرنے کی کوششکی، جبکہ پاکستان نے افغانستان کے ذریعے حاصل ہونے والی وسطی ایشیائی رسائی کے متبادل تلاش تو کیے، مگر ان متبادل راستوں کو ابھی تک اتنا مؤثر نہیں بنا سکا کہ وہ سابقہ تجارتی فائدے کی مکمل تلافی کر سکیں۔
اس لیے پاکستان کے لیے آئندہ پالیسی کا مقصد صرف افغانستان کے ساتھ تجارت بحال کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل ضرورت ایک ایسی قابلِ اعتماد علاقائی راہداری پالیسی کی ہے جو افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور چین کے ساتھ تجارت کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے بجائے ایک مربوط علاقائی نیٹ ورک میں تبدیل کرے۔
اگر پاکستان ایسا نہیں کرتا تو افغانستان کے تاجروں کا متبادل راستوں میں بڑھتا ہوا انحصار مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کو نہ صرف افغان ٹرانزٹ تجارت بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کے ایک اہم جغرافیائی فائدے سے بھی محروم رہنے کا خطرہ ہوگا۔
مختصر طور پر، مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس افغانستان کے متبادل راستے موجود نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ان راستوں نے ابھی تک افغانستان کے ذریعے حاصل ہونے والی تجارتی برتری کو معاشی طور پر مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا۔