تحریر: ارشد مومند
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی جنوبی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھا دی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اگست 2026 میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ حالیہ پیش رفت نے پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دوسری جانب ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور حوثیوں کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حالیہ حوثی حملوں میں درجنوں شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ توانائی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ یہ حملے یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔
پاکستان مشکل سفارتی دوراہے پر
سیکیورٹی امور کے ماہر تجزیہ کار شہاب یوسفزئی کے مطابق پاکستان اس وقت ایک حساس چوراہے پر کھڑا ہے۔ ان کے بقول ایک طرف ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے جس کے حوثیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ شہاب یوسفزئی کے مطابق پاکستان کے لیے کسی فریق کے ساتھ براہ راست فوجی محاذ آرائی میں شامل ہونا انتہائی مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ترجیح یہی ہوگی کہ حوثیوں، ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے، تاہم اگر جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اسلام آباد کے لیے صورتحال خاصی پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالشکور کے مطابق ماضی کے مقابلے میں حوثیوں کے حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے براہ راست فوجی مدد سے گریز کے باعث سعودی عرب کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ ڈاکٹر عبدالشکور کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات مشکل ہیں، تاہم امکان ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو فوری طور پر کسی بڑے فوجی امتحان کا سامنا نہ ہو، کیونکہ سعودی عرب جنگ کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات سے بچنا چاہے گا اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دے گا۔
مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاع اور جارحیت کے خلاف مشترکہ روک تھام ہے۔ اس میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ فوجی تربیت اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں تعاون بھی شامل ہے۔ معاہدے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ یہ دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں معاہدے کے تحت سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم کرنے اور پہلے سیکریٹری جنرل پاکستان سے مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
باب المندب کی اہمیت اور بدلتی صورتحال
باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی نے اس اہم تجارتی راستے کی سلامتی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے یمن کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ موخا بندرگاہ، ڈھباب اور خصوصاً پیرم (میون) جزیرے پر کنٹرول کی اطلاعات نے باب المندب کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ جزیرہ میون آبنائے باب المندب کے وسط میں واقع ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی فریق کا کنٹرول خطے کی بحری سلامتی پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں جہاز رانی میں نمایاں کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے سعودی جہازوں پر پابندی کے اعلان نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
حوثی سعودی عرب کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟
حوثیوں کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملے یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور فوجی کارروائیوں کا جواب ہیں۔ یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد نسبتاً کشیدگی میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ حوثی سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور سرحدی علاقوں کو نشانہ بنا کر ریاض پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق ان کی کارروائیاں یمن میں سعودی حمایت یافتہ اقدامات کے خلاف ردعمل ہیں، جبکہ سعودی عرب ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور شہریوں کے خلاف جارحیت قرار دیتا ہے۔
امریکہ کا محدود کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست فضائی حملوں میں مدد کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد واشنگٹن کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی ترجیح اس وقت ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر مرکوز ہے اور واشنگٹن ایک اور بڑے فوجی محاذ میں براہ راست داخل ہونے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور ٹارگٹنگ سپورٹ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم براہ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 200 امریکی مشیر سعودی عرب میں موجود ہیں، تاہم ان کی آپریشنل سطح پر براہ راست شرکت نہیں ہے۔
ترکی کا مؤقف
ترکی نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ترکی نے حوثیوں سے فوری طور پر جارحانہ اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور یمن کے تنازعے کے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم اب تک ترکی کی جانب سے براہ راست فوجی مداخلت کے حوالے سے کوئی واضح علامت سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کے لیے آگے کا راستہ کیا ہے؟
موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے سفارتی طور پر ایک مشکل توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے گیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور دیرینہ تعلقات اسلام آباد کو محتاط پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ براہ راست فوجی تنازع کا حصہ بننے کے بجائے سفارتی کردار ادا کرے اور سعودی عرب، ایران اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششوں کی حمایت کرے۔ تاہم اگر سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا ہے اور مکہ دفاعی معاہدے کی شقیں عملی طور پر زیرِ بحث آتی ہیں تو پاکستان کے لیے اس نازک سفارتی توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ یوں حوثی حملوں نے نہ صرف سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے بلکہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کو بھی ایک ایسے سفارتی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے اپنے دفاعی وعدوں، علاقائی تعلقات اور قومی مفادات کے درمیان انتہائی محتاط توازن قائم کرنا ہوگا۔