اسلام آباد (پاک ٹوڈے ): پاکستان کی سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی 17،17 سال قید کی سزائیں اپیلوں پر حتمی فیصلے تک معطل کرتے ہوئے دونوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے دونوں کو ضمانت دیتے ہوئے حکم دیا کہ ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد انہیں رہا کیا جائے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 24 جنوری کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون کے تحت مختلف الزامات میں مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دونوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور درخواست کی تھی کہ اپیلوں پر حتمی فیصلے تک ان کی سزائیں معطل کر دی جائیں۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دی تھی کہ سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کیا جائے، تاہم کیس کی سماعت کئی مرتبہ ملتوی ہوتی رہی۔
جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا اور دونوں کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اصل اپیلوں پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کا تازہ حکم ان کی سزا یا جرم ثابت ہونے کے فیصلے کو ختم نہیں کرتا بلکہ اپیلوں پر حتمی فیصلے تک سزا پر عمل درآمد کو معطل کرتا ہے۔