پشاور ہائیکورٹ نے ضم اضلاع کے 110 صنعتی یونٹس کو ایف آئی اے کے نوٹسز معطل کر دیے

پشاور(پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے سابقہ فاٹا یعنی ضم اضلاع میں قائم 110 صنعتی یونٹس کو ایف آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز معطل کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے باڑہ گھی سمیت مختلف صنعتی یونٹس کی رٹ درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل اسحاق علی قاضی نے عدالت کو بتایا کہ ان صنعتی یونٹس نے 2019 سے 2025 تک ٹیکس فری زون کے تحت خام مال درآمد کیا تھا۔ اس خام مال کے استعمال کی تصدیق کے بعد کنزمشن سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی سب کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول میں بعض صنعت کاروں کی شکایات کے بعد معاملہ وزارت داخلہ کے ذریعے ایف آئی اے کو بھجوایا گیا۔ اس پر ایف آئی اے نے تقریباً 109 صنعتی یونٹس کو نوٹسز جاری کر کے ریکارڈ طلب کر لیا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے انکم ٹیکس قوانین میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، اس لیے ایف آئی اے کی یہ کارروائی جائز نہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ایف آئی اے کے جاری کردہ نوٹسز معطل کر دیے اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

Related posts

سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی 17،17 سال قید کی سزائیں معطل کر دیں، رہائی کا حکم

پشاور: ایف آئی اے کی کارروائی، مبینہ انسانی اسمگلر گرفتار

بونیر: 40 روزہ بچی کے قتل کا مقدمہ، والدین گرفتار