امریکی عدالت نے 75 ممالک پر عائد ویزا پابندیاں کالعدم قرار دے دیں

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بڑا قانونی و سیاسی دھچکا دیتے ہوئے 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کی گئی امیگرنٹ ویزا پابندیوں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔

نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کی وفاقی جج جینیٹ ورگاس نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس پالیسی کے ذریعے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قونصلر افسران کو صرف کسی ملک کے نام کی بنیاد پر تمام درخواست دہندگان کے ویزے منسوخ کرنے کا حکم دینا قانون کے خلاف ہے۔ رواں سال جنوری میں نافذ کی جانے والی اس متنازع پالیسی کے تحت افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائیجیریا، صومالیہ اور تھائی لینڈ سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امریکہ میں مستقل سکونت کے ویزوں کی کارروائی معطل کر دی گئی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سیکیورٹی اور فلاحی نظام پر بوجھ کو روکنے کا ذریعہ قرار دیا تھا، تاہم عدالتی فیصلے کے بعد صرف اس پالیسی کی بنیاد پر ویزا روکنے کا عمل فوری طور پر ختم ہو گیا ہے۔

Related posts

تیونس کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، لاپتا افراد کی تلاش جاری

کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کا امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف کا اعلان

امریکہ کا جنوبی کوریا کو 125 ملین ڈالر کے جدید ایئر ٹو ایئر میزائل دینے کا فیصلہ