اوٹاوا (پاک ٹوڈے): کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی ناکامی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کے بعد شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کے خلاف جوابی تجارتی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اوٹاوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے انتہائی نامناسب اور ناقابلِ قبول شرائط پیش کیں جس کے بعد کینیڈا کے پاس مذاکرات ختم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم تجارت کے معاملے پر امریکا کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں، اور اگر ہم پر حملہ ہوگا تو ہم چپ نہیں رہیں گے۔” وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق 8 ستمبر (لیبر ڈے کے بعد) سے امریکی اسٹیل، الیکٹرانکس، زرعی آلات، ڈیری پروڈکٹس اور گاڑیوں کے پرزوں پر برابر کی شرح (ڈالر کے بدلے ڈالر) سے جوابی ٹیرف لاگو کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا کی جانب سے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف لاگو کر دیا گیا ہے جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان معاشی تعلقات شدید ترین بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔