واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست تسلیم کرتے ہوئے ایران جنگ کو انتخابی نقصان کی ایک اہم وجہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے انتخابی نتائج قبول کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بیلٹ پر موجود نہیں تھے، اگر انتخاب میں ان کا نام ہوتا تو ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے اور ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں بعض معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرلیں۔ ان کے مطابق امیگریشن کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون ممکن ہے، تاہم اگر ڈیموکریٹس نے ناقابلِ قبول تجاویز پیش کیں تو وہ انہیں ویٹو کردیں گے۔
ٹرمپ نے ایران جنگ کو بھی ریپبلکنز کی انتخابی مشکلات کی ایک وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا ہے۔
امریکی صدر نے کابینہ میں ردوبدل کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی الحال کابینہ میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج
ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 190 جبکہ ریپبلکنز کے 110 امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی 435 نشستوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستیں درکار ہیں۔
سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو 17 نشستوں پر برتری حاصل ہونے کے بعد ان کی تعداد 51 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز 8 نشستوں پر برتری کے بعد 39 نشستوں پر موجود ہیں۔ امریکی سینیٹ کی 100 نشستوں میں سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
