اسلام الدین ساجد
اسلام آباد (پاک ٹوڈے) ۔ پاکستان میں روایتی میڈیا پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور بروقت، آزادانہ خبروں کی عوامی ضرورت کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد ٹیلی ویژن چینلز کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کر رہی ہے، جہاں خبریں اور اطلاعات فوری طور پر شیئر کی جاتی ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً یوٹیوب، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی تصدیق کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 9 کروڑ 60 لاکھ افراد یوٹیوب استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ملک میں ٹک ٹاک کے 10 کروڑ اکاؤنٹس ہیں اور تقریباً 15 کروڑ افراد اس پلیٹ فارم پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستانی روزانہ یوٹیوب پر 56 کروڑ ویڈیوز دیکھتے ہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا میں یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں واٹس ایپ کے بھی تقریباً 10 کروڑ اکاؤنٹس ہیں۔
سوشل میڈیا کی طرف اس بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی وجہ روایتی میڈیا، بالخصوص ٹیلی ویژن چینلز پر سیاسی اور صحافتی پابندیوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔
ناقدین کے مطابق پاکستان میں بعض سیاسی شخصیات اور اختلافی آوازوں کی کوریج محدود کر دی گئی ہے۔ متعدد صحافی اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں سابق وزیراعظم عمران خان کا نام تک ٹیلی ویژن پر لینے سے روکا جاتا ہے۔ عمران خان اور ملک کے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی کشمکش بھی اس صورتحال کا ایک اہم پس منظر ہے۔
اسلام آباد کے رہائشی کلیم افضل کا کہنا ہے کہ وہ بروقت خبریں حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔ حقائق پر مبنی خبریں کم اور پروپیگنڈا، خصوصاً سیاسی مخالفین کے خلاف خبریں زیادہ دکھائی جاتی ہیں۔‘‘
کلیم افضل کے مطابق سرکاری میڈیا پر زیادہ تر حکمرانوں کی روزمرہ سرگرمیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ نجی ٹیلی ویژن چینلز بھی اب اسی طرز کی صحافت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جب میڈیا عوام کی دلچسپی کے مسائل اور خبریں نہیں دکھاتا تو اسے دیکھنے کا کیا فائدہ؟‘‘
خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے حسن ناصر کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چار سال سے کسی پاکستانی ٹیلی ویژن چینل کا خبرنامہ نہیں دیکھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کی خبروں کے لیے فیس بک اور ایکس استعمال کرتے ہیں، جبکہ آزاد صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی آرا سننے کے لیے یوٹیوب دیکھتے ہیں۔
پاکستان میں متعدد صحافیوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بھی قائم کر لیے ہیں، جہاں وہ روزانہ وی لاگز اور تجزیے پیش کرتے ہیں۔ بعض صحافیوں کے مطابق وہ خبریں اور موضوعات جن پر انہیں اپنے میڈیا اداروں میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، انہیں وہ یوٹیوب پر اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
یوٹیوب بہت سے صحافیوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے، جس سے انہیں روایتی میڈیا سے باہر اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر خبروں کے بڑھتے ہوئے انحصار کے اپنے چیلنجز بھی ہیں۔ جہاں یہ پلیٹ فارمز مختلف نقطہ ہائے نظر اور ایسی معلومات تک رسائی فراہم کرتے ہیں جو روایتی میڈیا میں نظر نہیں آتیں، وہیں غیر مصدقہ اطلاعات، غلط معلومات اور سیاسی پروپیگنڈے کے تیزی سے پھیلاؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
پاکستان میں میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام آزاد اور قابل اعتماد صحافت کی خواہاں ہیں، جبکہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لیے ڈیجیٹل دور میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
