کوئٹہ (پاک ٹوڈے): بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں انتہائی دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 8 سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور پر درندگی اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے جرم چھپانے کی غرض سے مقتولہ کی لاش کو پراسرار طور پر دفن کر دیا تھا۔ واقعے کا علم ہونے پر انتظامیہ نے قانونی اور ضابطے کی کارروائی کے تحت قبر کشائی کرکے جیوتی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا ہے۔
واقعے کا شدید نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایس پی نوشکی اور ڈی آئی جی رخشان ڈویژن سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کے دوران ایک اہم ملزم کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ دیگر روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقتولہ کے اہل خانہ کے اندراجِ مقدمہ کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے اور تمام زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
نوشکی: 8 سالہ بچی مبینہ درندگی کے بعد قتل، ایک ملزم گرفتار، دیگر کی تلاش جاری۔
تفصیلی خبر پڑھیں: